
لطیف النساء
کربلا کا واقعہ منفرد اور اعلیٰ نوعیت کا درسِ اسلامی ہےجو اسلامی تعلیمات اوراقدار کے حق میں رہتی دنیا تک مثالی ہے اس میں کسی کا انفرادی
فائدہ ہی نہیں بلکہ یہ تو ذات برادری سے ہٹ کر بالکل اسلامی تعلیمات اور اصولوں کے مطابق بالکل انہی کی پیروی یا پاسداری کے لیے ہی تو ہے تاکہ ساری دنیا کے آنے والے لوگ اس عظیم واقعہ سے درس عبرت حاصل کریں، جب نبیﷺ کی ذات رہتی دنیا تک ہمارے لیے راہِ ہدایت ہے کہ کس طرح امام حسینؓ اور حضرت علیؓ نے آپ ؐ کی زیر نگرانی تعلیم پا کر تعلیمات اسلامی کے وہ چراغ بنے جن کی روشنی سے اقتدار ہی نہیں بلکہ تعلیماتِ اسلامی یوں منور ہوئی کہ امت مسلمہ کو حق کی آواز میں ہی وہ احساسِ نڈری ملا جس کے بل بوتے پر وہ اسلامی ریاست کو کبھی بھی غلط ہاتھوں میں جاتا نہیں دیکھ سکے اور یہی سبق آج تک ہمارے سامنے مثالی ہے۔
اسلامی ریاست میں آپ ﷺ کی طرح بنائی گئی فلاحی ریاست کی طرح حکمرانی ہمیشہ نیک اور صالح قیادت کے ذمے ہی ہو تو ہی ریاست میں سکون اور امن ہوگا! ورنہ اگر اقتدار غلط ہاتھوں میں ہو تو وہ ضرور خلاف شریعت کام کریں گے اور ریاست کا امن ہر وقت خطرات میں ہوگا لہٰذا یہ پیغام کربلا ہی تو ہے!جو ہمیں سبق دیتا ہے ۔
حکمرانِ وقت اور متعلقہ تمام ادارے اسلامی شریعت پر ہی عمل کرتے ہوں اور کروانے کی مکمل اہلیت رکھتےہوں جب ان کا کردار ہی جھول دار ہوگا تو وہ کبھی بھی اپنی ریاست میں شریعت کی پاسداری کو فروغ نہ دے سکیں گے جبکہ انہیں ہی اقتدار میں رہتے ہوئے شریعت کی اپنے ملک میں یقینی پاسداری کر وانی ہوگی اور اسی کے وہ اہل ہو سکتے ہیں ظاہر ہے اس لیے انہیں اس کا اہل ہونا ہے اور اس طرح کسی ملکی اقتدار کے لیے وراثتی منتقلی سے زیادہ قابلیت اور اہلیت کا ہونا لازمی ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی ممالک میں حکمران اس پاسداری کے خلاف جا رہے ہیں سعودی عرب اور خود اپنے ملک کا حال ہمارے سامنے ہے جبکہ ہم اس قول رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی نہیں فراموش کر سکتے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے حکمران جو اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کر کے اللہ کے عہد کو توڑنے کے مترادف کام کریں اور ہمیں بھی سنت نبی ﷺ پر عمل کرنے نہ دیں تو ہم مسلمانوں کو ضرور جاگنا چاہیے اور ان کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرنا چاہیے بلکہ انہیں روکنے کیلئے ہر ممکن عمل لازمی کرنا ہوگا ورنہ ظلم ہے اور اللہ ظلم کو پسند نہیں کرتا جو بھی اس کے خلاف عملی قدم نہ اٹھائے سزا وار ہوگا رب کے عذاب سے نہ بچ پائے گا۔ اس لیے تو امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے یعنی ان کے پیاروں نے نہ صرف ظلم کے سامنے سر نگوں ہونے سے انکار کیا بلکہ ظلم سہتے سہتے جام شہادت پی کر رہتی دنیا تک کے لیے مثال قائم کر دی۔
یزید کی ضد کے خلاف مع اہل و عیال اہل بیت کا اس طرح حق کی خاطر ڈٹ کر لوگوں کو حق کی اصلیت دکھاتے ہوئے شہادتیں دینا کوئی آسان اور معمولی واقعہ نہیں!شہادت حسین ہی کی طرح نواسہ رسول ﷺ کا مقام بھی رہتی دنیا تک ایک معمولی قصہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخ عظیم داستانِ جدوجہد ہے جو ہم سب ہی مسلمانوں خاص کر اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور اسلامی ریاستوں کے عوام ارباب ِاقتدار سب کے لیے آنکھیں کھولنے اورضمیر جگانے کے لیے ہیں۔آج پھر ہمارے سامنے کربلاکی تاریخ دہرائی جا رہی ہے، ظلم کی اجا رہ داری ہے! اسلامی شریعت سے کس طرح چشم پوشی کرتے یہ حکمران طبقہ طاغوتی فرعون کے آگے کمزور ہو رہاہے؟ کیونکہ ان کے ضعفِ ایمانی اور تعلیمات اسلامی سے دوری شریعت سے دوری یا دنیا پرستی دہن ہی دراصل امن کی راہ میں نہ صرف رکاوٹ ہے بلکہ انتشار کو مزید ہوا دینا ہے لہٰذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اسلامی ممالک کا حکمرانوں کی اہلیت اور اقتدار کی پالیسیوں کو چیک کرتے ہوئے ہر فرد اپنا فرضِ عین نبھاتے ہوئے واقعہ کربلا کے سبق کو یاد رکھیں اور پوری دنیا میں جہاں ظلم ہو رہا ہو، شریعت کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، آواز نہ صرف بلند کریں بلکہ عملی اقدامات کریں اور فساد فی الارض سے دنیا کو پاک کرنے کی سعی میں لگے رہیں۔





































