
لطیف النساء
آج سے تقریبا ًچار عشرے پہلے میرے مرحوم سجاد بھائی کی شادی 14 اگست کو انجام پائی اس دن جو مجھے یاد ہے ہم عصر
کے وقت تقریب میں شرکت کے لیے نکلے اور پھر ٹیکسی میں سے ہی ہم نےجگہ جگہ جھنڈے لگے دیکھےاورگاڑیوں دکانوں میں بجتے گانے ،ترانے ،بسوں میں بھی شور تھا مگر سڑکوں پر ایک خوشی تحفظ اور سکون کا احساس تھا۔
بینجمن سسٹرز کے ترانے چلتے تھے اور زبان زدعام تھے،بڑی خوشی محسوس ہوئی۔ واقعی کوئی فکر کوئی ڈر نہ تھا۔رات 10 بجے تک ہم اتنی دور سے واپس گھر بھی آگئے۔ اُس وقت شادیاں سادگی سے اور وقت پر ہو جایا کرتی تھیں گویا م ماحول بے خوف تھا۔پھر اتنے سال بعد صرف تین سال پہلے میری بھانجی کی شادی بھی 14 اگست ہی کو طے پا ئی۔ اتنا فرق ایک دو دن پہلے ہی سے رش، شور شرابہ اور راستوں کی تنگی، جگہ جگہ لگے جھنڈوں، باجوں اور دیگر اشیاء کے اسٹالز اور مٹھائیوں کی دکانوں پر کیک مٹھائیوں اوردیگر لوازمات بنتے تھے۔ عجیب طرح کےبےتکی آواز والے باجے، روشنیاں اور پھر جھنڈے بنے ہوئے لباس بچوں بڑوں کے، ہر جگہ ہرا رنگ نمایاں،خصوصی انتظام اور ٹھیک 14 اگست کو ہم گلستان جوہر کے لیے شادی میں شرکت کے لیے سات بجے نکلے مگر ہلکی بارش اور بے پناہ رش ملا ،ہمیں تو ٹیکسی تک نہ ملی، ٹیکسی والے منہ مانگا کرایہ مانگ رہے تھے، پھر آخر کار زیادہ کرایہ دے کر رکشے میں گئے اور راستے میں رش، گانوں کا شور، باجو ں اور ترانوں کا شور کان پڑی آواز سنائی نہ دی۔الٹا ٹریفک بھی ایک جگہ ملا اور باوجود جلدی نکلنے کہ ہم ایک گھنٹہ لیٹ شادی میں پہنچے کیونکہ کورونا کی وجہ سے گھروں میں تقریبات ہوتی تھیں اور بس کورونا ختم ہی ہوا چاہتا تھا مگر اس دن جو احساس شرمندگی ہوئی کہ ہر جگہ تنظیم اور محبت کی کمی تھی ۔
راستوں کی بد نظمی، بے حیائی، رش کا ڈر خوف ،خود شادی والے گھرمیں بھی بارش کی وجہ سے تھوڑی بے چینی کا احساس ہوا، واپسی پر بھی اتنا رش رہا کہ گھر پہنچتے پہنچتے ایک بج گیاجو کمی کوتاہی مجھے نظر آ ئی، وہ نظم ضبط اور انسانی اخلاقیات کا فقدان تھا۔آزادی کا یہ دن، وقت کا ضیاع اور مزید تکلیف دہ تھا۔ خواتین کا فل میک اپ اور ہرے سفید کپڑوں میں مردوں کے ساتھ، لڑکے لڑکیاں اسکوٹروں پر سائلنسر نکال کر چار چار چھ چھ باوجود پابندی کے بیٹھ کر ہزاروں خطرات مول لے کر اس طرح مٹر گشت کرنا بالکل پسند نہ آیا۔ آزادی تو نام ہے احساس کا، تحفظ کا،خوشی کا، سکون کا، ہمدردی کا وہ چیز نہ ملی الٹا ڈر خوف کا عالم، مر جانے لٹ جانے کا، بدنظمی کا، شوروغل اور چلتی پھرتی بے حیائی کا خوشی کا یہ اظہار وطن کی آزادی کا درست نہیں!ہمیں کچھ کر جانے کا جذبہ انسانیت جگانے کا جذبہ کفایت شعاری اور دکھی انسانیت کی مدد کا جذبہ رکھتے ہوئے دوسروں کو بھی پرسکون رکھنے کا احساس کرنا ہوگا۔ ہمارے تمام ہم وطنوں اور فلسطینی مسلمانوں اور کشمیریوں کے غم کو سمجھتے ہوئے اس دور فتن میں بے حیائی سے بچتے ہوئے تمام تر تعمیری کام کرنے ہوں گے۔
صفائی ستھرائی پودے لگانے اور زیادہ سے زیادہ رقوم اپنےفلسطینی مسلمانوں کی مدد کرنے میں اور خود ہمارے ملک کے حالات سڑکیں درست کرنے اور ماحول دوست کاروائیاں کرنے میں لگانا ہوگا۔ تعمیری کام کرنے ہوں گے۔ملک میں احساس تحفظ کو ہی فروغ دینا ہوگا۔ ڈر خوف کی فضا آزادی نہیں ہے،کردار سدھارنے کے لیے ہمیں اپنے مقصدِ حیات اور نظریہ پاکستان کو عملی طور پر اجاگر کرنا ہوگا۔ عمل سے حدود اللہ میں رہتے ہوئے انسانی فلا ح و بہبود کے لیے جو بھی کام ہم کریں گے دراصل وہی ہماری آزادی ہے۔
شکر اللہ کا کہ ہم اب بھی منظم ہو کر دنیا کو جیت سکتے ہیں۔ہماراانعام آج کا نوجوان! سبحان اللہ ارشد ندیم زندہ مثال، چلتا پیغام!ضرورت ہے عمل کی وہی قائد اعظم کا فرمان کام کام اور کام، اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون گویا نفاذ اسلام! تو پھر یہ ملک میری جان میرا ایمان میری شان پاکستان زندہ باد۔





































