
ریطہ طارق
نعرہ تکبیر کے نعرے لگاتا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کشمیر کی گلیوں میں گشت کررہا تھا. گاندربل کےایک مشہور قصبے سفی پورہ کے نواح میں واقع
گنجان پہاڑیوں اور ندی نالوں میں گھرا چھوٹا ساگاؤں زنی پورہ ان کی دھماچوکڑیوں کا مسکن تھا۔
اس کے ساتھی تقریباً آٹھ ، نو کے قریب اکثر اس کے ساتھ ہوا کرتے، جب کبھی وہ اپنی تعلیمی و دیگر سرگرمیوں سے فرصت پاتا تو اپنے ساتھیوں سمیت پورے جوش و خروش سے وادی کے کہساروں اور جنگلوں میں سیر کے لیے نکل جاتا، جب بھارتی فوج کسی آپریشن سے نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھاتی نظر آتی وہ پتھروں سے نیزوں سے (جو اس نے خود اپنی مختلف جگہوں پر چھپائے ہوتے) بارش شروع کردیتا.
علی ایک جانباز سپاہی کی طرح پر عزم بچہ تھا، پندرہ سال کی عمر میں اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا،اب سے تقریباً چار پانچ سال پہلے اسکے بابا اسکے سامنے بھارتی غاصبوں کے ہاتھوں شہید کردئیے گئے تھے..اس کی ماں اور بہن کی عصمت دری کی گئ تھی، اس نے خود کو گھرسے دور جھاڑیوں میں چھپاکر اپنی جان بچائ تھی، جبکہ اسکی حالت اس سانحے کی وجہ سے ایسی ہوئ کہ وہ صدمے سے بے ہوش ہوگیا،اس اندوہناک واقعے نے اس کے معصوم ذہن پر بھیانک نقش چھوڑے تھےاور آئے دن ایسے واقعات بارہ مولا ، سری نگر اور دیگرشہروں میں ہوتے رہتے اور وہ سب نوجوان یہ سنتےاور دیکھتے جوان ہوئے تھے، نفرت اور خوف کا ایک جوالہ مکھی انکے پرعزم سینوں میں دہکتا رہت تھا جو قیامت صغری اس کے اور اسکے خاندان پہ گزری تھی اس نے اسے یکدم بدل کے رکھ دیا، اسے جب ہوش آیا تو وہ مجاہدین کے ایک کیمپ میں تھا.
مجاہدین میں سے ایک کمانڈر مجاہد غنی بھائ تھے جو دل. کے بہت غنی تھے۔ انہوں نے اسکی نگہداشت کی، اس کا بہت خیال رکھا، اسکو بنیادی دینی اور دنیاوی علوم سکھانے، جہادی تربیت کے لیے کوشاں رہتے اور اب انھی کے زیر تربیت اسکا دل ایمان سے مضبوط ایک چٹان بن چکا تھا.
گزرے واقعات اس کی آنکھوں کےسامنے روز ایک ہیولہ بن کر کھڑے ہوجاتے.ماں کی پتھرائی آنکھیں ،بہن کا معصوم سسکیوں بھرا،گلابی چہرہ باپ کی بے جگری سے نہتے ہاتھوں لڑتے لڑتے شہادت ،سب کچھ ایک تعویز کی طرحاس کے سینے پہ نقش ہوچکاتھا، وہ پتھر ہوچکا تھا، اب کشمیر کا چپہ چپہ اس کی ذمہ داری تھی۔ اس نے خود سے عہد کرلیا تھا کہ وہ مجاہدین کے ساتھ بھارت کے شیطانی عزائم اور ان غاصب فوجوں کا مقابلہ کرے گا۔اس کی ماں نے اسکے خون میں اسلام کی محبت بھری تھی۔ وہ کہتی تھی " کشمیر مسلمانوں کا خطہ ہے یہ پاکستان کی شہہ رگ ہے ہم اسکو ناپاک دشمنوں سے پاک کردیں گے" اور یہ کہانی محض ایک علی یا اس کے گھر کی نہ تھی بلکہ لہولہان ، سوختہ سامان اس جنت نظیر خطئہ کشمیر کےہردوسرے گھر کی یہی داستان خونچکاں تھی۔
وہ رات کی تاریکی میں آسمان کی طرف ستاروں کی روشنی سے اپنی امیدوں کو باہم کرتا، خود کو روز سمیٹتا،اپنی ماں کے اور اس دھرتی کے نآسودہ خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈتا رہتا اپنے خاندان اور ان گنت معصوم کشمیریوں کے خون کا بدلہ لینے کا عزم اسکے دل کی آگ کو دن بدن بڑھارہا تھا.بدلے کی آگ اسکےتن بدن کو جھلسائے رکھتی اس کی روح کےتلوےزخمی تھے. سینہ فگار تھا، عزم جواں تھا، ہمت اور یکسوئی اس کے بدن میں جہادی تربیت اور غنی بھائی کی شفیق پندونصاح نے بھردی تھی ۔ غنی بھائ کہتے تھے کہ ہمارا مقابلہ ایک سفاک ،مکروہ ظالم ،جابر اور مکار دشمن سے ہےجس سے مقابلے کے لئے ہم مظلوم ومعصوم کشمیریوں کو جوش کی بجائے ہوش سے لڑائی لڑنا ہوگی،چھپ کر، گھات لگا کر کیونکہ ماسوائےپاکستان اور چند اسلامی ممالک کے باقی ضمیر عالم سویا ہوا اور یرغمال تھا اور مغرب کی استعماری طاقتوں کی درپردہ حمائیت اور اسرائیل امریکہ ،وبرطانیہ کی بھارت کوپشت پناہی حاصل تھی کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی افواج کے ناپاک عقوبت خانے اورکیمپ تھے۔ بستیوں اور شہروں سےنوجوانوں کو چن چن کر ان عقوبت خانوں میں لاکرذہنی اور جسمانی ٹار چرکا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ چنانچہ اس نے سری نگر اور کپواڑہ کے مختلف خفیہ مجاہدین کےگھریلو ٹھکانوں پر بھرپور ٹریننگ اور تربیت حاصل کی اور اپنے دل میں بسے خوابوں کی تعبیر کے لیے وہ زنی پورہ لوٹ آیا۔ اسے واپس آئے چند روز ہی گزرے تھے کہ انکے گاؤں پر ایک رات ویسی ہی قیامت اتر آئی۔جیسے اس کے خاندان پر اتری تھی،نوجوانوں کو چن چن کررفتار کرکے عقوبت خانوں میں پہنچادیا گیا مزاحمت پر ماؤں کےسامنے انہیں گولیوں سےبھون دیا گیا۔ وہ کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں سےچھپ کر بھاگ کر جنگل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، اسکے دوساتھی راشداللہ اور نورالدین شہید بھی ہوگئے ۔جنہیں بنا کسی غسل کے دفن کرنا پڑا کہ اسباب میسر نہ تھے اور بھارتی فوجی بھوکے کتوں کی طرح انکے تعاقب میں تھے، وہ کسی نہ کسی طرح جنگل میں اپنے خفیہ ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
ارشاداللہ ،شفیع خان اور وجاہت صرف تین ساتھی علی کے ساتھ ٹھکانے تک پہنچ سکے باقی پانچ میں سے دو شہید ہوگئے.
مگر دو راستہ بھٹک گئے یابھارتی فوج سے مڈھ بھیڑ میں شہید ہوگئے، مسلسل دودن اور رات ان دونوں گمشدہ ساتھیوں کا وہیں چھپ کر انتظار کیا۔مسلسل بھوک اور پیاس سے انکے حلق خشک تھے بال اور کپڑے گرد سے اٹےتھے جبکہ سینوں میں عزم جوان تھاعلی مسلسل انکا حوصلہ بڑھا رہا تھا، جو پلان اور پروگرام انہوں نےترتیب دیا تھا۔اس کی آخری بار تیاری علی انکو سمجھا رہا تھا کچھ سامان جو اس خفیہ جگہ پر چھپایا گیا تھا۔ ارشاداللہ ،اور شفیع ،کو ایک ایک گن ،ایک ایک پسٹل اور کچھ ہینڈ گرنیٹ تھما دئیےاور کچھ سامان دومختلف تھیلوں میں ڈال کر وجاہت اور علی نے خود لے لیا.
علی نےپورادن پلان ترتیب دینے کے بعد گاؤں پرحملے کی تیسری رات کو گمشدہ ساتھیوں کی واپسی کی امید ختم کردی۔اس نے اپنے ساتھیوں کےسامنےایک مجاہد کمانڈر کی طرح تقریر کی۔"ساتھیو بیشک ہم نہتے ہیں مگر حق پر ہیں ، ظلمت کی سیاہ رات کودوام نہیں".آزادی اور فتح ونصرت کی صبح ایک دن ضرور طلوع ہوگی۔ ہمیں ظالم قابض بھارتی افواج کی تعداد اور ظلم وجبر مرعوب نہیں کرسکتے.
ہم اپنے عزم وجزم ،قوت ارادی جذبہ شہادت اور ایمان کی طاقت سے آخرش ان شاء اللہ ان کو شکست فاش دیں گے۔ جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے ہم اپنی جنت نظیر وادی کی عظمت اور عفت و عزت کی حفاظت کیلئے سربکف رہیں گے۔علی کی روح پرور اور پرشگاف تقریر نے جزبے اور ولولے کی ایک نئی روح پھونک دی۔
اس جنگل کے دوسرے سرے پر غاصب بھارتی افواج کا ایک کیمپ قائم تھا جہاں ان کے ٹینک بکتر بندگاڑیاں اور اسلحہ ،گولہ وبارود کا ڈھیر تھا وہ کیمپ اب ان چار پرعزم اور چٹان صفت جوانوں کا نشانہ بننے والا تھا۔رات کی تاریکی میں بغیر روشنی جلائےعلی نے شفیع اور ارشاداللہ کو دائیں طرف جنوب سے، وجاہت اور خود علی شمال کی جانب سے حملہ آور ہوں گے۔اور ایک ایک ساتھی فائرنگ کرکے فوجیوں کو الجھائے رکھےگا اور دوسرا خاموشی سے رینگتے رینگتے کیمپ کے پاس جاکر گولہ وبارود کے گودام پر گرنیڈ سے حملہ آور ہوگا۔
آخری بارچاروں ساتھیوں نے ایک دوسرے کو گلے سے لگایا، نصرمن اللہ وفتح قریب کا دل ہی دل میں نعرہ لگایا اوررات جب جوبن پرتھی۔ھو کا عالم تھا۔ جھینگروں اور حشرات کی آوازوں کا فائدہ اٹھاتے دبے پاؤں وہ کیمپ سےقریب سےقریب ہوتے چلے گئے ایک ایک قدم جیسے من من کا ہورہا تھا۔
دشمن کی تعداد اور سامان حرب وجرب سے لیس ہونے کا احساس تھا مگر جزبئہ ایمانی غالب تھا۔سرچ لائیٹ کیمپ کے چاروں طرف دائرے کی شکل میں گھوم رہی تھی۔علی اور وجاہت اللہ لائٹ کےسرکل کے گھوم کرواپسی کا انتظار کررہےتھے، وجاہت اللہ رینگ کر آگے بڑھنے لگا۔آہستہ آہستہ وقت جیسے تھم ساگیا تھا آنکھیں اندھیرے میں اپنا شکار تلاش کررہی تھیں اچانک ان کی ۔مخالف سمت سے فائرنگ کی آوازیں آئیں، روشنی کے گولے ہوا میں اڑنےلگے وجاہت اللہ نے رینگنے کی رفتار تیز کردی۔ علی نے کچھ فاصلے سے اٹھ کر اسےآگےجانے کاحکم دیا اور خود تیزی سے دوسری طرف
سےبھی فائر کھول دیا کیمپ پر جیسے چاروں طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ فوجیوں کے چیخنے اور بھاگنے کی آوازیں آنے لگیں، اچانک ایک طرف سے آگ کےشعلے بلند ہوئے۔ وجاہت نے فائرنگ سے بچتے ہوئے اللہ اکبر کانعرہ لگایا اور کیمپ کے وست میں دائیں بائیں گرنیٹ اور دستی بم پھینکنا شروع کردئیے۔دوسری طرف شفیع اور راشد بھی یہی عمل دہرا رہے تھے کیمپ میں بھگدڑ مچ گئی۔ آگ نے پورے کیمپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ خفیہ کمانڈر نے جس مقام کی نشاندہی کی تھی وہی اسلحے کا سب سے بڑا ڈپوتھا۔جب وہاں گرنیٹ پھٹا تو بم اور گرنیٹ جو ڈپو میں موجود تھے اڑ اڑ کر بھارتی فوجیوں کےپرخچےاڑا رہے تھے۔
بچے کھچے فوجی بھاگنے لگے،دونوں طرف سے راشد اور علیمسلسل فائرنگ کررہے تھے۔۔دیکھتے ہی دیکھتے ڈپو راکھ اور آگ کا ڈھیر بن گیا۔فائرنگ رک گئی۔ کچھ فوجی گاڑیوں میں بیٹھ کردوسری جانب گھاٹی کی سڑک کی طرف سے کیمپ چھوڑ کرفرار ہوگئے. پروگرام کے مطابق سب ساتھیوں کو ذندہ بچنے کی صورت میں اسی خفیہ ٹھکانے پر پہنچنا تھا، علی نے کچھ دیر وجاہت کا انتظار کیا۔ توکل برخدا طے شدہ طریقے سے واپسی کی راہ لی۔ گرتے. پڑتے ، وہ ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، وہ زخمی تھا مسلسل خون بہہ رہاتھا اسکے سر اور کاندھے پر چوٹیں آئی تھیں۔
ایک گولی اسکی ٹانگ کی پنڈلی چیر کر گزر گئی تھی یا شاید اسکی پنڈلی میں تھی اس نے قمیص کا کپڑا پھاڑ کر پٹی بنائی اور زخم پر باندھ دی غار میں پانی کا زخیرہ ختم ہوچکا تھا کھانے کا اسےہوش نہ تھا۔ بس اسے ساتھیوں کا انتظار تھا۔جو بچ جانے کی صورت میں وہاں پہنچ جاتے توانہیں زنی پورہ چھوڑ کرکپواڑہ کےنزدیک ایک زیر ذمین گھریلو مرکز تک پہنچنا تھا، نقاہت اور بھوک سے علی کی آنکھیں بند ہورہی تھیں۔ اس کا سر گھومنے لگا۔
نہ جانے کب اسکی ہمت جواب دے گئی اور اسکی گردن جھک گئی وہ بے ہوش ہوگیا، پتہ نہیں دوسری یا تیسری رات اسے ہوش آیا۔ درد کی ایک شدید لہر اسکےپاؤں سے اٹھی مگر اس نے اپنے اردگرد ہاتھ پاؤں مارے کہ شائید اسکے ساتھیوں میں سے کوئ واپس آیا ہو. غار میں مکمل خاموشی تھی، آپریشن کی کامیابی پروہ بہت خوش تھا مگر ساتھیوں کی شہادت کا اسے یقین ہوچکا تھا جو دھرتی ماں کی حفاظت کیلئیے اپنی جان وار چکےتھے.
اس نے بمشکل رینگ کر ڈائسیکٹنگ باکس تلاش،کیا جو چھپاکررکھا گیا تھا ،اپنی زخمی پنڈلی اور کندھے پر مرہم پٹی لگائ اور آج کی رات آخری انتظار،کا فیصلہ کیا ،تلاش وبسیار کے بعد غار کے کو نے میں ایک دبےہوئےتھیلےسے کچھ خشک جو اور گڑ کی ڈھلی مل گئی جسے کھاکر اسکے تن بدن میں کچھ حرارت پیدا ہوئی۔ اسے پتہ تھا کہ باہر جنگل اور وادی میں بھارتی فوجی بھوکے کتوں کی طرح اسکی تلاش میں ہیں۔ وہ زیادہ یہاں نہیں رک سکتا تھا۔بس زخم کے ٹھیک ہونے کاانتظار اور ساتھیوں کی واپسی کی امید اب دم توڑ چکی تھی، وہ اسی امیدو بیم میں تھا کہ نقاہت اور غنودگی نے اسکی آنکھیں بھینچ دیں مسلسل دودن اور دوراتیں اور انتظار کے بعد وہ غار سے نکل کرعازم سفر ہوا۔
زنی پورہ کے جنگل سے دائیں طرف پہاڑوں کے اس پار سےایک سڑک بٹ گرام اور بارہ مولا کی طرف جاتی تھی مگر راستے میں تیز ندی اور گھاٹیا ں تھیِں ۔جب کہ شمال مشرق کی جانب سے راستہ نسبتا کھلا تھا میدانی علاقہ تھا ،چوڑی سڑک بھی تھی جو دھانی پورہ سے گزر کر ، میوہ بستی سے سرینگر کی طرف جاتی تھی۔
دوسرا راستہ آسان مگر خطرناک تھا کہ سڑک پر فوجیوں کا گشت جاری رہتا تھا۔علی نے پہلے راستے کا انتخاب کیا اور اونچی نیچی گھاٹیوں اور ڈھلوانوں ، پہاڑی شکنوں اور تنگ دروں سے گزرتا ہوا آگے بڑھنے لگا، رات میں سفر اور دن میں کسی غار یا گھاٹی میں چھپنا یہ سفر کا طریقہ تھا جو غنی بھائ نے اسے دوران ٹریننگ سکھایا تھا. وہ مسلسل منزل کی جانب عازم سفر تھا کہ ایک طرف سے اسے کسی گاڑی کے انجن کے گھر،گھرانے کی آواز آئی۔انجانے خطرے نے اسے چوکنا کردیا، وہ تیزی سے ایک گھاٹی کے چھوٹےسےگڑھے میں چھپ گیا جھاڑیوں کی اوٹ نے اسےبچا لیا.
فوجیوں کی ایک ٹولی جیپ میں بالکل اسکے سامنے نیچے دشوار راستے پر ہچکولے کھاتی جارہی تھی فوجی مسلسل ادھر ادھر کچھ تلاش کررہے تھے. علی سانس روک کر خاموشی سے لیٹ گیا اسکا مطلب ہے کھوجی کتوں کی مدد سے یا زخمی گھٹنوں سے نہتے خون کے کسی جگہ نشان نے انہیں اردگرد کسی کی موجودگی یا تلاش پر اکسایا تھا۔اس نے ارد گرد کا جائزہ لیا ۔اپنے اسباب پر غور کیا۔ایک گن اور کچھ گولیاں باسی روٹی کے کچھ ٹکڑے اور بچے کچھے جو والا تھیلا وہ گہری سوچ میں گم تھا۔بے آواز سانس روکے گاڑی جاچکی تھی مگر تھوڑی دیر بعد اسے ایک بھاری فوجی ٹرک اسی راستے پر آتا دکھائ دیا اب شاید راستہ کٹھن ہوگیا تھا مسلسل گشت جاری تھا.
ایک کے بعد دوسری گاڑی گزرتی سنائی دے رہی تھی۔علی کو لگا کہ شائید اب یہاں سے بچ کے نکلنا مشکل اور ناممکن ہوگیا ہے۔ مسلسل انتظار کے بعد جب پہروں گزرگئے تو اس نے محسوس کیا ،کہ اب زخم مزید سفر کی اجازت نہیں دیتا، پاؤں اور پنڈلی سوج چکے تھے، نقاہت تھی۔ پانی دستیاب نہیں تھا، اچانک اس نے ایک خطرناک فیصلہ کیا اسکی آنکھوں کی چمک تیز ہوگئی۔ اس نے بچے کھچے جو کا تھیلا جھاڑیوں کے نیچے چند چھوٹے۔پتھروں کے نیچے دبادیا، رینگتے رینگتے سڑک کی جانب بڑھنے لگا.
وہ نقاہت ، زخم کی شدت سے نیم مردنی کیفیت میں رینگنے لگا،اس کی آنکھیں روشن تھیں،چہرے پر مسکراہٹ تھی، دل میں بدلے کی آگ روشن تھی ،ولولہ تھا جو اسے آگے لے جارہاتھا۔ رستے میں کھائی کی دوسری جانب تب ہی ایک بڑا ٹرک اسکو آتا دکھائی دیا جس میں بھارتی فوجی بھرے ہوئے تھے۔وہ لڑکھڑاتا ،رینگتا،ہانپتا سڑک کےقریب پہنچ گیا، ٹرک کا انتظار کرنے لگا،جیسے ہی گھاٹی کے موڑ سے ٹرک اس طرف مڑا۔
وہ ٹرک کے سامنے آوارد ہوا، اس اچانک ٹرک کے سامنے آجانے پر ٹرک ڈرائیور بوکھلاگیا اور اس نے بد حواسی میں ٹرک کے اسٹئیرنگ کو گھمایا یوں پورا ٹرک کھائ کی طرف نیچے گرتا چلا گیا توازن برقرار نہ رکھنے والا ٹرک کھائ پہ جاگرا، پیٹرول کی ٹنکی کھل چکی تھی، علی جو ٹرک سے ٹکراکر گر چکا تھا، ہمت کرکے اٹھا جیب سے ماچس نکال کر جلائ، چنگاری لگاکر اسے ٹرک سے بہتے پیٹرول کی طرف پھینک دیا، آگ بھڑک اٹھی سارا ٹرک فوجیوں سمیت آگ کا گولہ بن گیا، علی زخمی تھا اسکا سر پھٹ چکا تھا.
چند سانسوں کی مہلت میں اس نے کلمہ طیبہ پڑھا اس کی ماں کا چہرہ اسکی آنکھوں کےسامنے لہرایا جو بھارتی فوجیوں سے اپنی بیٹی کی عصمت کی بھیک مانگ رہی تھی. اسکے سامنے ایک گلرنگ گلدستہ نگاہ میں مرتکز ہوا جسے بھارتی کتے بھنبھوڑ رہے تھے پامال کررہے تھے۔ علی کے سینے سے ایک ہوک نکلی۔ اچانک ایک مسکراتا چہرہ اسکے سامنے آیا یہ اسکے باپ کا چہرہ تھا، ہشاش بشاش کھلا کھلا روشن اور تابناک صبح کی پہلی کرن جیسا لب وا ہوئے علی کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
زخم غالب آچکا نزع کا عالم تھا۔ گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی۔تھی مگر کانوِ ں میں ایک آواز گونجی اسی روشن چہرے کی۔نصرمن اللہ و فتح قریب میں تم پر راضی ہوں میرے مجاہد بیٹے تو نے ہمارا ہی نہیں۔سینکڑوں معصوم اور نہتے کشمیریوں کا نہ صرف بدلہ لیا بلکہ حریت و بہادری اور جواں مردی کی وہ مثال قائم کردی۔کہ جو کشمیریوں کے خون کو تادیر گرماتی رہے گی علی کی گردن ڈھلک گئی آنکھیں خاموش ہوگئیں۔ اور وہ جام شہادت نوش کر گیا، وہ کشمیر کا اپنے بابا ماں اور بہن کا بدلہ لے چکا تھا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون





































