
جویریہ اعظم
نگاہیں کس کو تلاشتی ہیں ۔۔۔ دل کیوں خالی ہے ۔۔۔ سوچیں کیوں اتنی الجھی اوربےربط ۔۔ یہ زندگی میں بےترتیبی۔۔۔زندگی کےسفرمیں انجانے رستہ
پرددوڑتےچلےجانےکااحساس اور پھر تھکن کسی منزل کے نہ ملنے پہ مایوسی۔۔۔آخر روح کی اس بےچینی کی وجہ کیاہے۔۔۔ زندگی میں کس چیز کی کمی ہے۔۔۔میرے رب کی ۔۔ دل میں اللہ کی محبت ہی نہیں بلکہ دل ایک رب کی موجودگی کے احساس سے شعوری طور پہ واقف ہی نہیں ۔ گویا ایمان ہے لیکن دل اس کی لذت سےناآشنا۔۔۔ایمان کی روشنی جو دل کی تاریکیوں کا مرہم بنے۔ رب کی قربت،رب کو جانے بغیر کیسے مل سکتی ہے۔دل تو اللہ تعالیٰ کی یاد ہی سےسکون پاتےہیں۔
زندگی کا مقصد،زندگی کاراستہ رب ہی دکھاتا ہے۔بندہ جب اپنےرب کوپکارتا ہےتووہ ہی اس کی دعاؤں کوقبول کرتا ہے۔یہ کیسےممکن ہےکہ سترماؤں سےبڑھ کر پیار کرنے والارب اپنےبندے کوسکون قلب عطانہ کرے۔وہ رب جب کسی کوآزمائش میں ڈالتا ہے تو بھی اس کو تنہا نہیں چھوڑتا ۔ بےشماردائمی انعامات کے وعدے کرتا ہے۔ یہ کیسےممکن ہےکہ خالق اپنےبندے کودنیا میں یوں ہی بےمقصد چھوڑدے۔ نہیں۔ وہ اپنے بندوں کو سیدھی راہ دکھا تا ہے پھر دل یوں بےچین نہیں ہوتےبندہ مقصد زندگی کو نگاہ میں رکھ کر صراط مستقیم پہ چلتاہےاور جنت کی حسین منزل پاتا ہے۔ اپنےرب کو مقصد زندگی کو پہچانےکی ضرورت ہےاوررب اپنی طرف آنےکا راستہ انہیں کودکھاتا ہےجو اس کی رجوع کرتے ہیں۔
ہرشے کےکوئی معنی ہیں۔۔۔زندگی کےمعنی،زندگی کی بقامقصدیت ہے۔زندگی خالی ہوتی ہےبغیرمقصدکے۔۔۔الجھن سےبھری ہوتی ہےاگرراستہ کاعلم نہ ہو۔۔ بےربط ہوتی ہےاگرمنزل معلوم نہ ہو۔۔۔ سورج طلوع ہوتا ہے،زندگی کی ابتداہوتی ہے۔روشنی پھیلتی ہے۔ زندگی نام ہےمعاشرے میں روشنی کی کرنیں بکھیرنےکا،معاشرےمیں پھول کی مانندخوشبوبکھیرنےکا۔ زندگی متحرک ہوتی ہے۔زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ پانی کے قطرے سےدریا اور دریا سے سمندر میں تبدیل ہونےکا نام زندگی ہے۔ بیج سےکونپل اورکونپل سےدرخت بننےکانام زندگی ہے۔ زندگی رکی ہوئی کبھی نہیں ہوتی یہ سفر ہےآگےبڑھنےکا۔
ہرکسی کا کوئی مقصد ہوتاہے۔کوئی محض فخروغرور،مال ودولت کی خاطرخودکومتحرک رکھتاہے۔کوئی اللہ تعالٰی کی رضا حاصل کرنےکی جدوجہدمیں مصروف ہے اور زندگی کا سورج یوں ہی غروب ہوجاتا ہےلیکن زندگی غروب آفتاب کےساتھ رک نہیں جاتی غروب آفتاب کا وقت تو طلوع ومہتاب کاوقت ہےاورزندگی اندھیرےمیں بھی اپنا وجود رکھتی ہے ۔
زندگی نام ہے اندھیرے میں چاند ستاروں کی مانند چمکنےکا،زندگی نام ہےاندھیرےمیں روشنی بکھیرنے کااورجواندھیرے میں روشنی بکھیرنے والے ہیں جورات کے پہر عبادت کرنے والے ہیں ،وہ جو بھٹی میں تپ کرکندن سےہیرابننےکاسفرطےکرتے ہیں وہی ہیں جو والسبقون السبقون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے آگے اور پیچھے نور ہے۔ یہ بڑی شان سے اللہ کے فضل سے منزل مقصود تک پہنچنے والے لوگ ہیں جن کے دل مطمئن ہیں کہ یہ دل حب الہٰی سے منور ہیں یہ اللہ کی رضا کے حصول کے مقصد کےتحت مصروف عمل ہیں۔
یہ روزوشب،سورج چاند یہ کائنات ہمیں زندگی کے معنی سمجھاتی ہے،متحرک رہنےکادرس دیتی ہے،مقصد سے جڑےرہنےکی تلقین کرتی ہے۔زندگی آگے بڑھتی ہےاوراس کے ساتھ ساتھ چلنا ہی کمال ہے۔ یہ سفر رب کی رضا کی خاطر ہو تو حسین منزل ہماری منتظر ہے اوراگرمقصد رب کی رضا نہ ہوتو ہم گمنام رستوں کے بےنام مسافر بھٹکتےہی رہتےہیں۔




































