
سعدیہ عارف
عیدُالاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی، اطاعت اور اخلاص کی یاد
دلاتی ہے۔ قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا، تقویٰ اپنانا اور اپنے دلوں میں ایثار و ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا ہے مگر افسوس کہ آج کے دور میں بعض لوگ اس مقدس عبادت کو دکھاوے، مقابلے اور شان و شوکت کی نمائش کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ بڑے بڑے جانور خرید کر ان کی تشہیر کرنا، دوسروں پر اپنی حیثیت جتانا اور قربانی کو فخر و غرور کا ذریعہ بنانا اس عبادت کی اصل روح کو متاثر کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ جانور کا گوشت اہم ہے اور نہ اس کا خون، بلکہ بندے کا تقویٰ، خلوصِ نیت اور عاجزی اہم ہے۔ اگر دل میں ریاکاری، تکبر اور دکھاوا ہو تو قربانی کی برکت اور مقصد کمزور پڑ جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قربانی کو سادگی، محبت اور خالص نیت کے ساتھ ادا کریں، غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں اور اس عظیم سنت کو صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے انجام دیں۔
حقیقی قربانی وہی ہے جو انسان کے اندر عاجزی، محبت، انسانیت اور تقویٰ پیدا کرے، نہ کہ دوسروں کو متاثر کرنے کی خواہش۔



































