
روشانہ جمیل
عربی مقولہ ہے اَلاُمُّ تَصنَعُ الاُمَّۃَ یعنی ایک ماں پوری اُمَّت کی بنیاد رکھتی ہے
یہ حقیقت ہے کہ جب سے ماں کےپیٹ میں بچہ حرکت کرنے لگتاہے وہ ماں کی ہراچھی بری بات کا اثر قبول کرنے لگتا ہے۔جب تک وہ خود سمجھدار نہ ہو جائے ماں کا اثرزیادہ قبول کرتا ہے بلکہ عورت کی پاکیزگی کا اثر اُس کے شوہر کی زندگی پراُس کی عبادت پراُس کےدین پر بھی پڑتا ہے۔اِسی وجہ سے تو کہا گیا کہ عورت مرد کے نصف دین کی محافظ ہے۔
ایک بذرگ اپنی بیوی سےکہنےلگےکہ میں تہجد پڑھتاہوں جبکہ تم صرف فجر کی نماز پڑھتی ہو.دوسرے دن بابا جی کی آنکھ فجر میں جا کھلی،بیوی کو کہنے لگےمعلوم نہیں کیاہوا پہلے توآسانی سے تہجد میں بیدارہوجاتا تھا آج فجر مشکل سے پڑھ پایا ہوں ۔بیوی صاحبہ کہنےلگی کہ پہلےمیں روزآٹا گوندھنا اورکھانا بنانا باوضو کیا کرتی تھی مگر کل جان بوجھ کر نہیں کیا۔بس اُسی کی وجہ سے آپ کی آنکھ نہیں کھلی کیونکہ آپ کی تہجد میں میرےباوضو کھانا بنانے کا عمل دخل زیادہ تھا۔عورت کی دینداری اورعلمِ دین بچوں میں خوب رنگ جماتا ہے۔ماں دیندار ہو تو بچہ با کمال بنتا ہے،امام شافعی کی پرورش ماں نے کی امام احمد کی پرورش ماں نے کی۔جناب غوث پاک کی پرورش ماں نے کی۔امام بخاری کی پرورش ماں نے کی ۔عفراء بنت عبید وہ خوش نصیب صحابیہ ہیں جن کے سات بیٹوں نےاسلام کی پہلی جنگ میں شرکت کی۔اُسی پاک ماں کے وہ دو بہادر بیٹے معاذ ومعوذ تھے،جنہوں نے ابوجہل کو قتل کیا تھا۔جب ماؤں نے بچوں کو دین کی گُھٹی پلائی تب بچےمجاہدین پیدا ہوئے۔تب بچےعلماء پیداہوئے۔
اب ماؤں نے دنیا پلا دی توبچےادکاروفنکاروگلوکار پیدا ہورہے ہیں کیوںکہ آج مائیں اپناوقت بچوں کےساتھ گُزارنے کی بجائے سوشل میڈیا پر گُزاررہی ہیں جس کی وجہ سے بچّے بےراہ روی کا شکارہو رہے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کے اللہ آج کی تمام ماؤں کے دل پھیر دےتاکہ آنے والی نسل دین دار ہواورروشن ستاروں کی طرح ابھرے۔





































