
روشانہ جمیل
گھریلو زندگی ہویا باہرمعاشرے کی زندگی۔لڑائی جھگڑے اللہ تعالیٰ کوسخت ناپسند ہیں۔قرآن کریم میں جھگڑالوانسان کی بہت
مذمت کی گئی ہے۔اس کے برعکس صبرو برداشت اورجھگڑے سے پرہیزکو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اورایسے شخص کو اجر وثواب سے نوازتے ہیں ۔
اگرکوئی شخص حق پرہونےکےباوجود محض فساد ختم کرنےاورلڑائی جھگڑے سےبچنےکی خاطر اپنا حق چھوڑ دے یا صلح کر لےاس کو نبی کریم ﷺ نے بہت عظیم بشارت دی ہے ۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت ہےکہ آنحضرت ﷺ نےارشاد فرمایا:أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ۔
ترجمہ :میں اس شخص کو جنت کےکناروں پرگھردلوانے کی ضمانت دیتا ہوں جوجھگڑا چھوڑ دے،خواہ وہ حق پرہو۔(سنن أبی داود)جس شخص کو جنت میں پہنچانےبلکہ جنت میں گھردلوانے کی ضمانت آنحضرت ﷺ نے لےلی ہو تو اس کی خوش نصیبی کا کیا ٹھکانہ ہے ؟
اللہ تعالی ہمیں صبر وبرداشت اختیار کرنے اورلڑائی جھگڑوں سے اجتناب کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔۔۔





































