
روشانہ جمیل
چودہ اگست کے قریب آتے ہی آزادی کے نام پر ملک میں عجیب و غریب سی حرکات دیکھنے کو ملتی ہیں۔آزادی کیا ہے؟یہ ان سے پوچھیے جو اپنے ہی ملک میں قید ہیں۔ فلسطین میں ہمارے بھائی بہن کٹ رہے ہیں
،مر رہےہیں ۔ آزادی کے لیےترس رہے ہیں اور ہم آزادی کے نام پر بےحیائی فضول خرچی اسراف کر رہے ہیں۔اگر پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا ہوتا جو کسی"روشن خیال" نے اپنی "جدوجہد" سےآزاد کروایا ہوتا۔
پھر تو اس موقع پر قومی ترانوں پر شاید گانا بجانا، مردوں عورتوں کا اکٹھےسیلبریٹ کرنا، پرفارمنس اور ڈانس قومی ترانوں پر یہ سب بنتا تھا۔
لیکن اس کو اللہ کے نام پر، دین اسلام سے محبت کرنے والوں نے آزاد کروایا ہے۔اس سے مخلص اب بھی وہی ہیں جواسلام سےاسلام کے قانون اور نظام سے مخلص ہیں۔یہی ناچ گانا کرنا تھا تو ہندووں سے الگ ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ خدارا شکرانے کے دن کو بے حیائی سے آلودہ کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کریں۔





































