
روشانہ جمیل
جو کچھ آپ کےپاس ہےاس کی قدرکریں،وہ جو کچھ بھی ہے۔حتی کہ اپنی مشکلوں اورمصیبتوں کی بھی قدر کریں کیونکہ آپ دوسروں کی میصبتوں کابوجھ نہیں اُٹھا سکتےجو آپ کرسکتےہیں ،وہی آپ کو دیا
گیا ہے،پرسکون ہو جائیں، اطمینان پا لیں ،خود کو قبول کریں۔ آپ لمبے ہیں، پتلے ہیں، چھوٹے ہیں،گورے ہیں، کالے ہیں، جیسے بھی ہیں، خود کو قبول کریں۔خود سے محبت کریں، خود سے بھاگنے کی کوشش نہ کریں،ورنہ ساری عمر بھاگتے ہی رہیں گے۔
آپ گاؤں سےہیں، شہرسے ہیں، آپ کےوالدین غریب ہیں، آپ کا بچپن مصیبت ذدہ ہے،یاآپ بروکن فیملی سےہیں،اسے قبول کر لیں ۔۔۔۔اس پر اطمینان حاصل کر لیں۔آپ کی شادی ٹوٹ گئی، رشتے داروں نے اچھا سلوک نہیں کیا، فرینڈز نے دھوکا دیا، محبت میں بے وفائی ملی، وعدہ کر کے مکر گئے، آپ وہ نہیں پا سکے جس کے خواب دیکھتے تھے، وہاں شادی نہیں ہو سکی جہاں کرنی تھی، اسے قبول کر لیں …بس قبول کر لیں …بے چینی سے نکل آئیں۔
آج ساری دنیا کے کام پس پشت ڈالیں!آج اپنے لیے فرصت نکالیں!کہیں بیٹھ جائیں ،گہرا سانس لیں اورآج سےسب کچھ قبول کرنا شروع کر دیں اور پھراطمینان پا نے کی طرف نکل کھڑے ہوں۔ اپنی مرمت ابھی سے کرنا شروع کر دیں کہ دیر نہ ہو جائے۔ آپ ٹوٹے ہوئے ہیں ابھی سے خود کو جوڑ لیں ورنہ ملبہ بن جائیں گےاور ملبہ کسی کام کا نہیں ہوتا۔
آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر، خود کو بڑی محبت سےدیکھیں اورکہیں”تم بہت خوبصورت ہو!کیونکہ اللہ کی تخلیق میں نقص نہیں ہوسکتا“۔
اپنی شناخت کو قبول کریں۔کبھی بھی اپنی شناخت،اپنے ماضی،اپنےمصائب پرشرمندہ نہ ہوں۔ آج سےہی اطمینان حاصل کرنے کا سفر شروع کریں۔ آج سے ہی خود کو تھپکی اور تسلی دینے کا نیک کام شروع کر دیں۔آپ کو خود ہی اپنا معمار بننا ہے۔تھوڑی سی ہمت پکڑیں،زیادہ دعا کریں، اور چارہ جوئی سے سکون حاصل کر لیں۔





































