
روشانہ جمیل
آج کل اتنی غربت کیوں ہے ؟
جواب میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شورہے۔آج کل ہم جس کوغربت کہتےہیں وہ دراصل خواہشات کےپورانہ ہونےکانام ہے،ہم نےتوغربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ جب ہم گورنمنٹ اسکول میں تختی پرلکھتےکبھی سلیٹ پر۔کبھی لکھنےکےلئےسلیٹی کے پیسے نہیں ہوتے تھے سیل کا سکہ استعمال کرتے تھے۔
اسکول کےکپڑےجولیتےتھےوہ چھوٹے ہونے پر بھی پہن لیتے تھے،کپڑے اگرپھٹ جاتےتوسلائی کرکےبار بار پہنتے تھے۔
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتےتھےاورجوتاسروس یاباٹا کانہیں مقامی کمپنی کا پلاسٹک کا ہوتا تھا،گھر میں اگر مہمان آجاتا تو اسی دن اچھا کھانا ملتا۔وہ بھی آس پڑوس سے کچھ نا کچھ مانگنا پڑتا۔
آج تو ماشاءاللہ ہر گھر میں ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ہے، مہمان تو کیا پوری بارات کاسامان موجود ہوتا ہے،آج تو اسکول کےبچوں کےہفتےکےسات دنوں کےسات یونیفارم استری کر کے گھر میں رکھے ہوتے ہیں۔پرائیویٹ اسکول میں پڑھایا جاتاہے۔بچوں کو سب میسر ہے۔روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں۔ آج اگر کسی کی شادی پر جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں۔
پرانے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان شکرادا کرتا تھاجس کا لباس سستابوٹ پھٹا پراناہوتاتھااورجیب خالی ہوتی تھی۔آج کا چلتا پھرتا نوجوان جوغربت کارونارورہاہوتاہےاُس کی جیب میں تیس ہزار کا موبائل کپڑے کم سےکم دو ہزار کے جوتا کم سے کم تین ہزار کی ہاتھ پر گھڑی ہوتی ہے۔غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا تو روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے تهے۔آج کے دور میں خواہشوں کے پورا نہ ہونے کوغربت سمجھا جاتا ہے،اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے تو ہم غربت کی دہائی دیتے ہیں ۔عورتیں پارلر نہ جا سکیں توسمجھا جاتا ہے کہ ہم غریب ہیں۔
آج خواہشات کاپورا نہ ہونےکا نام غربت ہے،ہم ناشکرے ہوگئےہیں۔اسی لئےبرکتیں اٹھ گئی ہیں،لہٰذاہمیں اپنی خواہشات کولگام دینےکی ضرورت ہےاگر ہم ایساکر یں گےتوان شاءاللہ پھر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔





































