
روشانہ جمیل
صَفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔
صَفر کےمہینہ سے مراد وہ مہینہ ہےجومحرّم الحرام کےبعدآتا ہےجس کوصفر المظفراورصفرالخیر بھی کہتےہیں چونکہ کمزورعقیدہ لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینےمیں آفات اورحوادث ومصائب کا نزول ہوتا ہے۔
اہل عرب کا ایک غلط خیال یہ بھی تھاکہ اگرمقتول کے خون کا بدلہ نہ لیا جائے تواس کی کھوپڑی سےایک اُلّو نکل کرچیختا ہے۔جب بدلہ لےلیاجائےتو مقتول کی روح کو تسکین ہو جاتی ہے اور اُلو خاموش ہو جاتا ہے۔حدیث میں اس غلط نظریہ کی بھی تردید کی گئی ہے۔
ماہ صفر کے متعلق نحوست اور مصائب کےنزول کا عقیدہ لوگوں کامن گھڑت اورجاہلانہ عقیدہ ہےجس کی شریعت اوردین اسلام میں کوئی اصل نہیں ہے،احادیث مبارکہ میں اس قسم کے عقائد سے منع کیا گیا ہے،لہٰذا ماہ صفر بلکہ کسی چیز کے بارے میں بھی نحوست کا عقیدہ رکھنا جائز نہیں کیونکہ غم وخوشی اور صحت وبیماری وغیرہ سب اللہ تعالی کی مرضی و منشاء اور بندوں کی آزمائش کےطورپرآتے ہیں،اس میں نہ توکسی چیز کی نحوست کا دخل ہےاورنہ کسی اور چیزکا بلکہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے۔
ماہ صفر کے آخری بدھ کےبارے میں لوگوں کایہ عقیدہ کہ اس روز نبی کریم ﷺ مرض سےصحت یاب ہوگئے تھے،اس لئےعید کی طرح خوشیاں مناتےہیں خصوصاً مزدور طبقہ مالکان سے چھٹی مانگتا ہے، مٹھائی کے پیسے طلب کرتا ہے، یہ محض بے بدعت ہے، کھانے پینےکی غرض سے لوگوں نے اس کو ایجاد کیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو حضور اکرم ﷺ کے مرض وفات کی ابتداء ہوئی تھی۔





































