
روشانہ جمیل
آج کا بچہ جس کےہاتھ میں قلم ہونا چاہیے، وہ موبائل فون تھامے کیمرے کےسامنےپرفارم کر رہا ہےجس کی آنکھوں میں علم، بصیرت اورخدمت کا خواب
ہونا چاہیےاس کی نظریں لائیکس، ویوز اور فالوورز پر جمی ہوئی ہیں۔
نہ یہ بچے خود کو پہچانتےہیں، نہ وقت کی قیمت جانتے ہیں، بس ایک خواہش ہے کہ لوگ دیکھیں، تعریف کریں اور واہ واہ کریں...!۔
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا؟
یہ "واہ واہ" کرنے والےکل کہیں اورہوں گےاورہمارابچہ بےمقصدی، تنہائی اوراحساسِ کمتری کا شکارہوگا۔ یہ صرف ویڈیو نہیں بلکہ ایک نسل کا مستقبل ہے جو ہم ضائع کر رہے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور باشعور افراد کو اب خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔نوجوانوں کو محبت، رہنمائی اور شعور دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں بتانا ہوگا کہ اصل کامیابی لائیکس میں نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کے لیے استعمال کرنے میں ہے۔
ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ کیمرے کے آگے کی دنیا عارضی ہے لیکن کتابوں، خدمت اورعلم کےذریعے جومقام حاصل ہوتا ہے،وہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔





































