
روشانہ جمیل
ہر وقت ہر جگہ اپنے ربّ کا شکر ادا کریں ناشکری بالکل بھی نہ کریں.آپ ہمت سےکام لیں دلبرداشتہ بالکل بھی نہ ہوں۔ پریشانی اورمصیبت کا آنا تو اس دنیا
میں لازم ہے اور ایسے کٹھن حالات کی وجہ سے ہی آپ کی تربیت ہوتی ہےپھر آپ باقی لوگوں کے لیے ڈھارس اور سہارے کا ذریعہ بنیں گے۔ آپ باقی لوگوں کو بہترین انداز میں تسلی دیں سکیں گے ، ان کی رہنمائی کر سکیں گے۔دوسری بات یہ کہ مصائب اور پریشانی سے گناہ یاخطا معاف ہو جاتے ہیں اور موت کے بعد جنت میں اعلیٰ مقام عطا کر دیا جاتا ہے۔
ناشکری یہ نہیں کہ پریشانی اورمصیبت کی جہ سےآپ کا دل اداس اورغمگین نہ ہو،ایسا نہیں! بلکہ یہ توانسانی فطرت ہےکہ مصیبت اور پریشانی کی وجہ سے دل اداس اور غمگین رہتا ہے،ہاں البتہ یہ ضرور ناشکری ہو گی کہ پریشانی کو اپنے ذہن پر اتنا سوار کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو، اپنے ربّ کی طرف رجوع نہ ہو، بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی نہ ہو اور ہر وقت ہر کسی سے فریاد کرتے پھریں۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ دل کااداس ہونااورچیز ہے اورہروقت ہر کسی سے فریاد کرنااوراپنےربّ کی طرف رجوع نہ کرنا،یہ اورچیزہے۔دل کا اداس ہونا غیر اختیاری چیز ہے، وہ ناشکری اوربےصبری نہیں اور اپنے بہت خاص متعلقین کےساتھ اپنا دکھ درد شریک کرنا اور ان سے مشورہ لینا یہ بھی ناشکری اور بے صبری نہیں۔
تاہم جیسے بھی حالات ہو اپنے ربّ کا شکرا ادا کرنا چاہیے۔قرآن کریم نےشکر اداکرنے کے 3 طریقے بتائے ہیں:
1️⃣ دل سے نعمت کی قدر کرنا اور استحضار کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہمیں ملی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی تو کسی بھی وقت وہ نعمتیں چھین سکتا ہے۔
سورۃ النحل آیت 16 میں ارشاد فرمایا:
وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ
اور تمہارے پاس جو نعمت بھی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔
2️⃣ زبان سے اس نعمت کا ذکر کرنا۔
سورۃ الضُحیٰ میں فرمایا:
وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
اور اپنے رب کی نعمت کا خوب اظہار کرو.
(یعنی نعمت میسرہونے کےباوجود لوگوں کےسامنے فریاد اور ناشکری نہ کرو.)
3️⃣ اپنے اعمال سےدکھانا کہ ہمارے رب نے جو نعمت دی ہے،ہم وہ صحیح طور پر استعمال کر رہے ہیں. اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والے کاموں میں استعمال نہیں کر رہے،یعنی اس نعمت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کے کاموں میں نہیں خرچ کر رہے۔
جیسے سورہ سبا آیت 13 میں ارشاد ہے
اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ
اے داؤد کے خاندان والو! تم ایسے عمل کیا کرو جن سے شکر ظاہر ہو۔
ان تینوں آیات سے معلوم ہوا کہ دل، زبان اور اعمال سےاللہ کی نعمت کا شکر ادا کیا جائے تو ایسےشکر پر اللہ تعالی 4 انعامات سے نوازتا ہے۔ سب سے پہلا انعام یہ کہ اللہ کی رضا نصیب ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالی چاہتےہیں کہ میرے بندے میری نعمت کا شکرادا کریں اور میں ان سے راضی و خوش ہو جاؤں۔
دوسرا انعام یہ کہ شکر کی بدولت انسان اللہ کے عذاب سے بچ جاتا ہے۔
تیسرا انعام یہ کہ جس نعمت پر شکر ادا کیا جا رہا ہے، وہ مزید بڑھتی ہے۔ کیونکہ زندگی کی ہر نعمت ایک بیج کی طرح ہے جسے شکر کی زمین میں بویا جائے تو کئی گنا بڑھ کر فصل دیتی ہے۔
اور چوتھا انعام یہ ہے کہ آخرت میں انسان کو شکر کے ایک ایک لفظ ، شکر کے احساس اور شکر والے عمل پر بہترین اجر سے نوازا جائے گا۔ ہر حال میں بار بار اپنے ربّ کا شکر ادا کریں وہ دن دور نہیں جب ایک پرسکون زندگی آپکے سامنے کھڑی ہو گی،سہولت والے راستے آپ کے پاؤں تلے ہوں گے، اور خوشیوں بھرے دن کا سورج آپکے سر پر چمک رہا ہو گا ۔ان شاء اللہ





































