
ازقلم :زخرف سلیمان
ماضی ایک ایسی بلاہےجس کےخوف اورپچھتاوے کےسبب لوگ زندگی میں آگےنہیں بڑھ پا تے۔ بہت سےلوگ جن کا ماضی گناہوں میں ڈوباہوا ہےوہ آگے
بڑھنے کے بجائے اپنےحال کوبرباد کررہےہوتےہیں جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں
قُل يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُواعَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعً اِنّہُ ھُوَالغَفُورُالرّحِیم (سورۃ زمر:53)
ترجمہ: اے میرے بندو جنہوں نےاپنی جانوں پرظلم کیا ہے! تم اللہ کی رحمت سےمایوس نہ ہو۔ بےشک اللہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے، یقیناً وہی بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ آپ کیوں اس پچھتاوے میں اپنی زندگی کوبرباد کررہے ہیں؟؟ ۔ آپ وہ شخص تھے اب نہیں ہیں۔ آپ کے ساتھ اب وہ سب نہیں ہوگا جو پہلے ہوا کیوںکہ اب آپ وہ شخص نہیں رہے۔ انسان تو ہے ہی خطاء کا پتلہ تو کیا ہو گیا غلطی ہو گئی ۔وہ ذات توبہتررحیم ہے ۔اللہ تو خود کہتے ہیں میں بہت غفورورحیم ہوں ، پھر ہم کیوں مایوسی کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں.۔
جب تک آپ اللہ کےاحکام کےمطابق کام نہیں کریں گےتواپنےحال کو بھی برباد کریں گےاورپھریہ حال آگےجاکے جب ماضی بنےگا توبھی پچھتاوےکے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ پیچھے جو ہوا اللہ بہت رحیم ہیں وہ معاف کردیتے ہیں ، آپ اپنے حال اور مستقبل پردھیان دیں ، ماضی کو بھول جائیں۔ وہ یقینا آپ کو کچھ سکھانے کے لیے تھا۔
کسی کا دل دکھایا ہو تواس سے بھی سچےدل سے معافی مانگیں اور لوگوں کے رویوں سےدرگزرکرنا سیکھیے۔اگراب آپ اللہ سے قریب ہیں اور آپ کا ماضی بہت براتھا تو وہ ماضی اس لیے براتھا کہ آپ اپنے رب کی طرف پلٹ سکھیں۔
پتہ ہےجو لوگ شروع سے اللہ کے قریب ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی بہت خوش قسمت ہوتے ہیں لیکن جو گناہوں کو چھوڑ کر اللہ کے قریب جاتے ہیں وہ خوش قسمت ترین لوگ ہوہتےہیں۔ اس لیے ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے نکل کرآگے بڑھیں ۔ زندگی کا مقصد جانیں ۔ اللہ کے قریب ہوں اور اپنے حال کو سنواریں لوگوں کے طعنوں اورطنز پرزیادہ دھیان دینے کی ضرورت نہیں ۔ورنہ اسی میں الجھیں رہیں گےبس اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرتے رہیے۔





































