
از قلم: زخرف سلیمان
دل پریشان ہےاورقلم لکھنےسےقاصرہے کہ آج کےنوجوان کو ہو کیا گیا ہے۔۔۔وہ اس دنیا کو اپنا کُل اثاثہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہرنوجوان عیش وعشرت میں
اتنا مگن ہے کہ اسے آخرت کی فکر ہےنہ موت پروا ۔۔۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہےکہ اپنے دین پر دھیان دینے کے بجائے حرام کاموں میں ایک دوسرے سےسبقت لے جانے کی دوڑ لگے ہوئے ہیں جیسا کہ نا محرم کے ساتھ تعلقات، گانےسننا وغیرہ ۔
صد افسوس!!!کہ ایک مسلمان نوجوان ان چیزوں کواتنی اہمیت دے رہا ہےتو اگلی نسلوں کاکیا بنے گا۔۔۔۔ یہاں تک کہ مسلم نوجوان نے بھی قرآن کے بجائے میوزک کو اپنی روح کی غذا سمجھ لیا ہے اور پریشانیوں کا سامنے کرتے وقت وہ اللہ سے رجوع کرنے کے بجائے غمگین گانوں کی طرف رجوع کرتا ہےجس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا ہورہا ہے۔۔۔۔
اپنے پیارے دین کی دعوت کا کام کرنے کے بجائے غیر مذہبی روایات کو اپنانے کےجتن کیےجا رہے ہیں۔۔۔۔افسوس!!!! آج اگر کسی نوجوان سے دین کی بات کی جائے تو یہ سننے کوملتا ہے کہ کیا فضول باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو اور اگر آخرت کی بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے عیش کرو یا زندگی کون سا دوبارہ ملنی ہے۔ آخرت آئے گی تو دیکھا جائے گا۔
بھئی کیا دیکھا جائے گا۔۔۔۔ جب آپ نے دنیا میں آخرت کے لیے کچھ کیا ہی نہ تو پھرکیا دیکھا جائے گا نعوذباللہ جہنم کاعذاب۔۔۔۔؟؟؟؟؟
افسوس کا مقام تو یہ ہےکہ جو آج دین کا کام کررہا ہے تو اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کو نت نئے فیشن کی ترغیب دی جا رہی ہے۔۔۔ قرآن تو بس ایک اونچے شیلف پہ رکھا آپ پر افسوس کر رہا ہے۔۔۔۔ بے ہودگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ٹک ٹاک پرنامحرم کے ساتھ ویڈیوز بنائی جارہیں ہیں اور اس کو قابلِ فخر بات سمجھی جارہی ہے اور نامحرم سےاپنا فوٹو شوٹ کروایاجا رہا ہے۔
دوپٹّے توکہیں ہواؤں میں ہی گم ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔خود کومغربی تہذیب میں ڈھالنے کے جتن کیےجا رہے ہیں۔۔۔۔خود سوچئےبحیثیت مسلمان آپ اس دنیا میں کس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے؟ کیا آپ کو آپ کو دیکھ کر کوئی غیرمسلم اسلام کی طرف آئے گا۔ بالکل بھی نہیں کیوں؟ کیوں کہ ہم اپنے دین کوویسے پیش نہیں کررہےجیسے ہمارا فرض ہےہمارا پیارا دین توبہت منفرد ہےلیکن افسوس ہم نےخود ہی اپنے دین کا مذاق بنارکھا ہے۔۔۔۔۔۔اگر آپ کامیابی چاہتے ہیں تو اُس دنیا میں کامیابی ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کریں کیوںکہ اللہ نے قرآن میں اس دنیاکےبار ے میں جسے ہم اپنا کُل اثاثہ سمجھ بیٹھے ہیں واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ:
فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدۡخِلَ الۡجَنَّۃَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ(۱۸۵:۳)
“پس جو کوئی جہنم سےبچا لیا گیا اورجنت میں داخل کردیا گیا تو تحقیق وہ کامیاب ہوااور دنیا کی زندگی دھوکے سامان کے سوا کچھ نہیں”
پس اپنا زندگی میں بھیجےجانےکا مقصد جانیے۔۔۔۔اللہ سے لو لگائیے اور دنیا کی بجائے آخرت کے دائمی عیش وعشرت کو پانے کے لیے محنت کیجیے۔ z





































