
زخرف
دل پریشان ہےاورقلم لکھنےسےقاصرہےکہ پاکستانی نوجوانوں کو ہو کیا گیا ہے۔۔۔ کیا آج کے پاکستانی نوجوانوں کو دیکھ کر کوئی ہی کہہ سکتا ہے کہ یہ
ملک اسلام کے نام پربنا تھا۔۔۔۔؟؟؟ پاکستان ہمارا پیارا ملک جس کے نوجوان ۱۴ اگست تو بہت جوش و خروش سے مناتے ہیں مگر اسی پاکستان کی حالت کو بگاڑنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے ہمارے نوجوانوں کواتنا خود غرض کوئی کیسے ہو سکتا ہےکہ وہ تمام کوششیں جو ہمارے قائد اور دوسرے اصلاف نے کیں وہ بھول گئے ۔ کیا یہ تمام کوششیں بُھلائی جاسکتی ہیں؟؟لیکن افسوس کے ساتھ وہ بھلائی جاچکی ہیں۔
ہمارے حکمران کیا کررہے ہیں ۔ وہ خود ہی ایک دوسرے کے ساتھ دشمنیوں پر اترآئےہیں ۔۔۔۔۔ عوام کا کیا بنے گا؟؟ یہ وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن افسوس آج کے دور میں کوئی شرم و حیا باقی نہیں رہی ۔۔۔۔ رشوت لینا اور دینا توعام ہو گیا ہے۔۔ عورتیں بغیر دوپٹّے اور تنک لباس پہن کےگھوم رہی ہی۔۔۔ ظلم و ستم بہت بڑھ گیا ہےحلانکہ قائد نے تو ہمارے ایمان کو بچانے کے لیے اپنا الگ ملک لیا تھا انڈیا کےظلم سے بچانے کے لیے لیکن افسوس کہ آج تو بھائی بھائی ایک دوسرے پرظلم کر رہا ہے۔
قتل وغارت گری بڑھ گئی ہے۔۔ ہمارے ڈراموں میں بھی بہت غلط نظریات دیےجارہے ہیں۔۔۔۔۔۔ سکول میں فضولیات انتہائی بلند درجے پرپہنچ گئی ہیں اور افسوس تویہ ہے کہ کوئی روکنےوالا نہیں۔۔۔ کیا ان سب حالات میں کوئی ملک ترقی کر سکتا ہے؟ نوجوان اپنی مستی میں مگن ہیں۔۔۔۔ مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔۔۔آئے روز نئےقتل کی خبریں ٹی وی پرگردش کررہی ہوتیں ہیں۔
آہ ہمارا پیارا وطن جسے قائد اور ان کے رفقاء نے اتنی محنتوں سے حاصل کیا اگر انہوں نے روز محشر پوچھا کہ اپنے وطن کو سنبھال کررکھا؟ توہم کیا منہ دکھائیں گے ۔۔
افسوس کےساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم تواپنی نظروں میں ہی گرگئےہیں جو ہم نے اپنے ملک کا حال کردیا ہے۔لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک کو دوبارہ کیسے پروان چڑھائیں تو اس کے لیے ہم سب اس یومِ آزادی پر عزم کرتے ہیں کہ ہر کوئ اپنی پوری کوشش کرے گا اور اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اپنے ملک کو سنورنے میں ان شاء اللہ کیوںکہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔





































