
زخرف سلیمان?
کل ہم سیوغزہ کے دھرنے پرگئے جو سیون ٹوئنٹی فور چل رہا ہے۔ اللہ اکبر میرے پاس واقعے الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنی کیفیت کو بیان کو بیان کر
سکوں کہ ادھر سے واپس آ کر کیسا محسوس ہو رہا۔ ایک طرف جہاں دکھ ہے تکلیف ہے کہ ہماری حکومت کے افراد کے ضمیر اتنے مردہ اتنے بے حس ہو چکے ہیں ان کی دل کی آنکھ اتنی اندھی ہو چکی انھیں کچھ نہیں آرہا انہیں غزہ میں اجڑتی ماؤں کی گودوں سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا رتی برابر بھی نہیں ہاں رتی برابر بھی نہیں انھیں مظلوم بچوں کی آہوں سے کوئ خوف نہیں آ رہا۔۔۔انہیں ڈی چوک پر شہید رومان اور عمران کے کیس سے کوئی غرض نہیں ان کو قتل کرنے میں خود ان کا جو ہاتھ تھا ،انہیں کیا فرق پڑے گا۔آہ!!! افسوس صد افسوس۔۔۔۔۔ اتنی بے حسی کیوں کب تک ان کی بے حسی کو ہم دیکھتے رہیں کب تک ان ظالموں،بے حسوں،بے ضمیروں سے ڈرتے رہیں آخر کب تک؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا پیسہ اتنا طاقتور ہے کہ آپ (ہماری حکومت اور وہ تمام لوگ جو فلسطین کے لیے آواز نہیں اٹھا رہے ہیں) کہ آپ اس قدر گِر جائیں اس قدر؟؟؟؟ یہ لوگ بہت کمزور ہیں ان کو لگتا ہے پیسہ ہی سب کچھ ہے یہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی بھول رہے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے ،یہ پیسہ یہ شہرت سب کچھ یہاں رہ جانے یے سوائے اس کے جو آپ نے نیک اعمال کیے۔ یہ سب اپنی مستی میں سرشار ہیں۔اللہ ان کو ہدایت دیں۔آپ خوددار نہیں غلام ہیں غلام ہاں غلام ان تمام ممالک کے جو اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں اور آپ غلام ہیں اسرائیل کے بھی ہاں غلام۔
معروف صحافی مبلغ محمود الحسنات نے کیا زخمی الفاظ لکھے ہیں۔کہ اگر 30 ہزارشہید،70 ہزار زخمی اور 20 لاکھ بے گھر فلسطینی مہاجرین کو دیکھ کر امت نہیں جاگی۔تو میرے الفاظ کی کیا اہمیت میں کیا کہوں،کس سے کہوں؟؟?
دوسری طرف میں ان چند با ضمیر لوگوں کی بات کروں گی جواسلامی جمہوریہ پاکستان کےباسی ہیں،ان کےاندر درد ہے۔غزہ والوں کے درد کو محسوس کرنے والے ہیں۔اللہ کے چنے گئے لوگ ،یہ وہ لوگ ہیں جو آزاد ہیں ۔ دنیا کی غلامی سے جنہوں نے تمام خوف سے بالاتر ہو کر پاکستان میں اسلام آباد میں 24/7 سیو غزہ کمپین شروع کی جس کو آج 20 دن ہو گئے ہیں۔۔۔انہیں بہت سی اس ظالم حکومت کی طرف سے تکالیف بھی پہنچائی گئی جب شہید رومان اور عمران کو درندے قتل کر کے جا رہے تھے تو یہ پولیس کی منتیں کرتے رہے کہ ان درندوں کو پکڑو لیکن پولیس بھی ہماری بے حس حکومت کے نیچے ہے وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔۔۔
ہماری حکومت کے اندر اللہ کا خوف نہیں بلکہ ان ممالک کا خوف ہے انہیں ڈر لگتا ہےنہ کہ کہیں یہ ممالک انہیں پیسہ دینا بند نہ کر دیں یہ اس بات کو بھول چکے ہیں کہ اوپر ایک رب بھی ہے جو انصاف کرنے والا ہے جو رازق ہے خالق ہے،مالک ہے یہ بھول گئے ہیں نہ کہ انہیں مرنا بھی ہے۔۔۔پھر جب سیو غزہ اور ان کے ساتھ دھرنے میں لوگ مختلف مطالبات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جانتے تو حکومت کی جانب سے بھیجی گئ پولیس ان کو روکنے کی بھر پور کوشش کرتی رہی۔۔۔لیکن جب ان کے ساتھ اللہ کی مدد ہے تو یہ مضبوط ہیں اور رہیں گے یہ پیچھے نہیں ہٹے۔
آپ سب کو اور آپ کی ٹیم میں شامل تمام یوتھ کو جو اتنے ایکٹو ہیں وہ سب مجاہدین ہیں ان میں اتنا جذبہ ہےان سب کو سلام۔ میں شہید رومان اور عمران کے بارے میں کہنا چاہوں گی کہ جذبہ ہو تو ایسا اللہ اکبر کتنی خوبصورت شہادت تھی نہ۔اور حماس بھائی جو زخمی ہوئے تھے ٹھیک ہونے کے بعد پہلے سے زیادہ جذبے کے ساتھ دوبارہ دھرنے میں شامل ہوئے۔اللہ اکبر۔ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ ان کے چینلز کو فالو کریں، وہاں حکومت میڈیا والوں کو بھی نہیں جانے دے رہی۔تو آپ ہر جگہ سے ان کو فالو کریں تا کہ حکومت پر پریشر پڑے۔ میں آپ سب سے آخر میں یہی درخواست کروں گی خاص طور پر یوتھ سے کہ میڈیا اس وقت ہماری بہت بڑی طاقت ہے اس کو اس کام کے لیے جتنا ہو سکےاستعمال کریں ۔ ان کے لیے دعا کرتے رہیں اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیں۔اتنے غیر مسلم مسلمان ہو رہے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں کو مسلمان ہونے کے باوجود بھی شرم نہیں آ رہی۔ لا اللہ الا اللہ۔
اللی کے لاٹھی بے آواز نہیں ہے جب وہ حرکت میں آگئی تو کوئی بھی ظالم نہیں بچےگا،ابھی اللہ ہمارا ٹیسٹ لے رہے ہیں اللہ ان بے ضمیروں کو بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ کس حد تک گر سکتے ہیں۔
میرا سیو غزہ والوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ ظالم ان شاء اللہ جلد ہی اپنے انجام کو پہنچے گا آپ ثابت قدم رہیں جو کہ آپ ہیں بھی اللہ کی مدد کے ہمیشہ ساتھ ہے اور رہے گی۔میری دعا ہے کہ اللہ ان کو ہدایت دیں اور ان کے دلوں کو نرم کر دیں آمین۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































