
زخرف سلیمان
اہلِ سِتَم نے راستہ روکا بہت مَگر
جَنّت نَگَر کا اسمعیل تھا جَنّت نَگر گیا
یقیناً بدھ کا دن امت مسلمہ پرسخت،تڑپا دینے والا اور ایک کڑی آزمائش سےبھرپور دن تھا۔اسماعیل ہنیہ تو چلے گئے وہ زندہ
تھے اور اب بھی زندہ ہیں۔ وہ بہت صبر،استقامت،حوصلے اور جرأت سے اس دنیا کی تکالیف کو برداشت کرتے رہے۔ آزمائشوں پر پورا اترے۔اپنے دین کی سرفرازی اور اپنا اس دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد پورا کر کے شہادت کا عظیم رتبہ پا کر اپنے 60سے زائد خاندان والوں کے پاس چلے گئے۔
یہ شہادت ہے گہر الفت میں قدم رکھنا
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
وہ ایک عظیم لیڈر تھے جن کے جانے سےروح پریقیناً ایک گہرا زخم لگ گیا ہے لیکن امت مسلمہ اب بھی وقت ہےجاگیں۔اٹھیں،اہلِ غزہ کو بتائیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔دل کرتا ہے کہ سب کو جھنجھوڑ کر جگا دیں کہ اے لوگو تمہاری نیندیں پوری ہو گئیں ہیں تو دیکھو غزہ پر کیا گزر رہی ہے ۔کیسے ان کے زخم رس رہے ہیں۔ان کی روحیں چھلنی ہیں ۔اٹھو،دیکھو اب بھی وقت ہے۔
ظالم کیسے آگ اور خون کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے، آنکھیں کھولو اوراس تپش کو محسوس کرو۔آج نہیں اٹھو گے تو کل تم پر بھی ایسا وقت آ جائے گا اور تمہاری صدا کوئی نہیں سنے گا۔یہ وقت ہے کہ ہم اہلِ غزہ کو بتائیں کہ ہمارے دل ان کے ساتھ جڑے ہیں، جب وہ روتے ہیں ہم روتے ہیں ،جب وہ ہنستے ہیں ہم ہنستے ہیں۔اسماعیل ہنیہ کہہ کر گئے ہیں کہ "القدس ہم سب کی ذمہ داری ہے جو القدس اور مسجد اقصی کی مدد کر سکتا ہے ،سیاست کے ساتھ وہ کر گزرے،چینلز کے ساتھ وہ کر گزرے،سوشل میڈیا کے ساتھ کر گزرے،مالی مدد کے ساتھ وہ بھی کرے جو اس سے بڑھ کر کر سکتا ہے کر گزرے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم فلسطین آ کر اقصی کو بچائیں بلکہ جو کر سکتے ہیں کریں ،چاہے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہو یا جیسے بھی۔ہمیں خاموش نہیں رہنا ہے کیوں کہ فلسطینی ہمارے ہیں۔اقصی ہمارا ہے۔القدس لنا،القدس لنا،القدس لنا۔





































