
زخرف
تجھے چاہنے والوں سے بے پناہ شکوے ہیں مگر۔۔۔۔
اے وطن!
ہمیں تم سے بے انتہا محبت ہے۔۔۔۔
پاکستان ہمارا ہے۔ہمیں اس کی آزادی کی قدرو قیمت کو پہچانتے ہوئےان تمام باتوں کو یاد کرنا ہے جن کی وجہ سے یہ پاکستان وجود میں آیا۔ہمارے قائد نے یہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا تھا۔ہم سب کو ایک ایک شخص کو اٹھنا ہے اور اپنے پیارے وطن کی کے لیے کوششیں کرنی ہیں جس مقصد کے لیے یہ بنایا گیا تھا، اسے ہر شخص نے پورا کرنا ہے۔اپنے دین کو عام کرنا ہے تا کہ پتا چل سکے کہ یہ ملک مسلمانوں نے اسلام کو بچانے کے لیے بنایا تھا۔
ہم نے جن مغربی روایات سے بچنے کے لیے یہ ملک پایا تھا آج ہم ان ہی روایات میں کھو کر اصل مقصد بھول گئے ہیں۔
ہم اپنی حکومت کی بات کریں تو وہ ہے جو جشن آزادی منانےکے لیے میوزیکل کنسرٹ کا انقعاد کر رہی ہے اور فلسطین کے لیے رکھے گیا ایونٹ کو منسوخ کروا دیا ہےجو بے حسی کی انتہا ہے۔وہ ہ یہ بھول گئی ہے کہ یہ ملک جس نام پر بنا تھا اسی اسلام میں ہے۔ یہ بھی حکم ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں ۔ جسم کے ایک حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسراحصہ اسے محسوس کرتا ہے۔ آج فلسطین میں اور جہاں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے ،وہ ہمارے جسم کے حصے ہمارے اپنے ہیں۔
ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنوں کے لیے کچھ کریں۔ وہ کٹ رہے ہیں تکلیف میں ہیں۔ اذیت میں ہیں لیکن اصل آزمائش ہماری ہے ،اللہ نے توہمیں آزادی دی ہے ، ہمیں ہمارا ملک دیا ہے،اب وہ آزما رہا ہے کہ ہم اپنوں کی کیسے مدد کرتے ہیں؟ تو حکومت سے نہ کبھی امید تھی نہ ہے لیکن اللہ پر ہمیں پورا بھروسہ ہونا چاہیے کہ وہ سب کو ہدایت دے اور ہم سب کو اپنے ملک کے لیے ،اپنے فلسطینیوں کے لیے جہاں تک ہو سکے کرے۔کسی سے کچھ بھی توقع رکھے بغیر اپنا فرض ادا کرنا ہے۔۔ سب کے پاس اتنی ہمت جرات و بہادری ہونی چاہیے کہ وہ سچ کا ساتھ دے ،ظلم پر آواز اٹھائے ۔ہمیں گونگا نہیں بننا کیوں کہ ہم مسلمان ہیں یہ جانتے ہیں کہ روزِ قیامت حساب کتاب ہونا ہے۔ہمیں ایک اچھا مسلمان بن کر اپنے ملک اور اپنے لوگوں کو بچانا ہے۔تا کہ روزِ قیامت اللہ کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔
ہم تو مٹ جائیں گے اے ارضِ وطن تجھ پر۔۔۔
تجھ کو زندہ رہنا ہے قیامت کے سحر ہونے تک۔۔(ان شاء اللہ)





































