
حسن عالم
میرے پاپا جان! بہت پیارے اور بہت اچھے ہیں۔ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ میرےمسائل فوراً حل کردیتے ہیں۔ میری انکھوں میں انسو نہیں دیکھ سکتے
لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہورہے ہیں۔ ہمارے پاپا بولنا کم کرتےجارہے ہیں۔ اب وہ زیادہ تریوٹیوب پرنیوزسنتےرہتے ہیں۔ عمران خان کا تذکرہ بہت شوق سے سنتے ہیں۔ ہر وقت نیوز کی آوازسے امی جان تنگ ہو جاتی ہیں۔ میرے پاپا زیادہ تر سید مخدوم شہاب الدین صاحب اورعمر دراز گوندل صاحب کی نیوز سنتے ہیں۔ ایک دن امی جان نے کہا ان دو نیوز کاسٹرزکےعلاوہ بھی کسی کو سن لیں توپاپا نے فوراً سید مخدوم شہاب الدین صاحب کا چینل آف کیا اور یاسررشید صاحب کا چینل ان کردیا جو کہ امی جان کے عزیز بھی ہیں۔ وہاں بھی عمران خان کی گھڑی کا تذکرہ ہورہا تھا۔ پاپا جان اتنی زیادہ نیوز سنتے ہیں کہ ہمیں بھی یاد ہو گئی ہیں۔آج کل الیکشن کےلیے اہل اور نا اہل کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایک دوسرے سے کرسی چھیننےکی تگ و دو ہے۔عمران خان کے دور حکومت سے توشہ خانہ اور گھڑی کا کیا ایشو ہے۔ اس کی بھی ہمیں سمجھ اگئی۔ لیکن! ہم ان سب کا کیا کریں۔ ہماری گلی میں تو سیوریج کا پانی کھڑاہے۔ ہم گزرنہیں سکتے۔ بارش ہو جائے تو راستہ اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ میں سکول سے چھٹی کرلیتا ہوں۔ امی جان نے آنٹی کے گھر بریانی بھیجنی تھی میں اور میرا بھائی بائیک پہ دے آئے کیونکہ گلی میں تو سیلاب کا سماں تھا۔ اب جونیوز چینلز پر نیوز چل رہی ہیں ،وہ ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ ہمارے تو مسائل حل ہونے چاہیے۔اج کے لیے اتنا ہی۔۔۔۔۔۔۔کل میں کچھ نئی نیوز کے ساتھ حاضر ہوں گا۔ کل تک کے لیے اجازت دیجئے اپ کا حسن عالم۔





































