
بنت خلیل
پس منظر: فاطمہ یوٹیوب میں حجاب اور نقاب کے طریقے دیکھ رہی ہوتی ہے کہ امی کو کمرے میں آتا دیکھ کرموبائل رکھ کر امی
سے ہمکلام ہوتی ہے...
فاطمہ :امی میں آئندہ رباب آپی کی طرح شرعی پردہ کروں گی...
امی جھنجلاتے ہوئے: بیٹا آپ پردہ کرتی تو ہو ۔
فاطمہ : نہیں ماما میں کزنز سے بھی کروں گی۔۔۔
امی: بیٹا دیکھا ھے نا رباب کا رشتہ نہیں ہو رہا پردے کی وجہ سے۔۔۔
فاطمہ :امی آپ یہ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ پردے کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔۔۔
امی: بیٹا اب ہر کوئی سوچتا ہے ناں کہ لڑکی پردہ کر کے گھر کیسے سنبھالے گی؟؟؟
فاطمہ : مگر امی ہماری فیملی میں رباب آپی سے بڑی اور بھی تو لڑکیاں ابھی کنواری ہیں وہ تو شرعی پردہ بھی نہیں کرتیں ۔
امی : ہاں وہ تو ہے۔
رباب: امی یہ تو اللہ کی حکمتیں ہیں جس کا جب رشتہ ہونا نصیب میں ہوا تو ہو جائے گا ۔۔۔اور ویسے بھی اکثر اوقات بے جا شرائط رشتہ نہ ہونے یا دیر سے ہونے کی وجہ بن جاتی ہیں۔۔۔
شازیہ : ہاں ویسے بھی اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔
فاطمہ : نہیں امی اللہ کے ہاں دیر بھی نہیں ہے ہر کام اپنے وقت پر ہوتا ہے ۔۔۔
ویسے امی میں تو بلکہ سوچ رہی تھی کہ رباب آپی کتنی لکی ہیں۔۔۔ دین کو نہ سمجھنے والے لوگ اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔۔۔
امی نا سمجھی کے انداز میں :فاطمہ تمہاری باتیں مجھےبامشکل ہی سمجھ آتی ہیں۔۔۔
فاطمہ مسکراتے ہوئے : امی دیکھیں جو ہیرا ہوتا ہے ناں اسے دیکھنے کی زحمت بھی بس وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔
اسی طرح رباب آپی کی اہمیت اللہ کی نظر میں بہت بلند ہو گئ ہے بے مروت اور دین کو نہ سمجھنے والے لوگ انہیں کیسے افورڈ کر سکتے ہیں ۔۔۔ بلکے آپی تو ایسے لوگوں سے محفوظ ہو گئ ہیں ۔۔۔ اب وہی لوگ ان کے قریب ا سکیں گے جو پردے کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوں گے ۔۔۔
امی: ہممم یہ بات تو بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو پتا ہے کچھ دن پہلے جو لوگ پردے کا سن کر اسے ریجکٹ کر کے گئے تھے بعد میں پتا چلا اس لڑکے نے پہلے ہی کورٹ میرج کر رکھی تھی اب والدین بیچارے کیا کہتےپردے کو درمیان میں لا کر انکار کرگئے۔۔۔
بچ گئ ہماری رباب ۔
بیٹی کے قرآن ، حدیث اور عقلمندانہ دلائل کے بعد شازیہ مان تو گئیں مگر دل میں ابھی بھی ایک ڈر سا تھا کہ ناجانے اب کیا ہوگا ۔۔۔ میری بیٹی کو کون قبول کرے گا ۔۔۔
بات یہ نہیں تھی کہ اسے اللہ پر یقین نہ تھا بس مامتا کی محبت کے ہاتھوں تھوڑا سوچنے پر مجبور تھی ۔۔۔
ایک مہینے بعد
شازیہ کو اپنی بہن فرزانہ( رباب کی امی )کی کال آتی ہے۔
فرزانہ حال احوال دریافت کرنےکے بعد : شازیہ آج لگ رہا ہے میرے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ۔۔۔
شازیہ حیرانی سے : باجی وہ کیسے؟؟؟
فرزانہ : ہم نے رباب کا رشتہ طے کر دیا ہے ۔۔۔
شازیہ : ما شاء اللہ کہاں طے کیا؟؟؟
فرزانہ: بہت اچھے لوگ ہیں دین کو سمجھنے والے لڑکا بھی بہت سمجھدار ہے ۔
فرزانہ اپنی بیٹی کے ہونے والے سسرال کی تعریفوں کے تمام پل باندھنے کے بعد اہم بات یاد آنے پر شازیہ سے گویا ہوئی
اچھا وہ میں بات کرنا بھول گئ جس کے لیے سپیشلی تمہیں کال کی تھی ۔۔۔
شازیہ : جی باجی کہیں
فرزانہ : رباب کا جہاں رشتہ کیا ہے ،اس کےچھوٹے بھائی کے لیے بھی وہ لوگ رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں انہیں چھوٹی بہو بھی پردے دار چاہیے ۔۔۔
اور پرسوں جب فاطمہ ہمارے گھر آئی تھی تو رباب کی ہونے والی ساس نے فاطمہ کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا ۔۔۔
فون کال کے بعد
شازیہ فوراً سےاٹھ کر وضو کرتی ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے دو نفل نماز ادا کرکےجب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے تو ساتھ ہی وہ ان ساری باتوں جو اس نے فاطمہ سے کی تھیں اور ان خدشات اور وسوسوں کے لیے جو شیطان نے اس کے دل میں ڈال دیے تھے اللہ سے معافی بھی طلب کر لیتی ہے۔





































