
محمودہ تفسیر
صبح کے وقت گھر کے کاموں سےفارغ ہوکر جب ٹی۔ وی آن کیا توسب سے پہلے جو خبردیکھی دل پریشان ہو گیا روڈ کے کنارے ایک شخص
بینر اٹھائے بیٹھا تھا ۔"بچے برائے فروخت ۔۔۔۔اینکران سے انٹرویو لیتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔ بچے کیوں بیچ رہے ہو ؟کتنے ظالم والدین ہو۔ اور وہ بے بس باپ خون کے آنسو روتے ہوئے کہنے لگا کہ میرے پاس ان کو کھلانے کے لیے روٹی نہیں ۔ تعلیم تو ایک خواب ہے روز ایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کوئی بھوک سے تنگ آکر خودکشی کر رہا ہے تو کوئی اپنا جسم بیچنے پر مجبور ۔ غریب تو پہلے ہی مشکل میں تھا ۔ اب تو متوسط طبقے کے لیے ضروریات زندگی کو پورا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے آٹا چینی دالیں یوٹیلیٹی بلزپورا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ زندگی کی انتہائی بنیادی ضروریات عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ۔ اور حکمران اب بھی اپنی لڑائیوں میں مگن ہیں ۔انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔نئی گورنمنٹ جب آتی ہےتوصرف پہلی حکومت کی نااہلی کا روناروتے دکھانی دیتی ہے۔
مسائل کو حل کرنے کی بجائے آنے والی حکومت مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔غریب عوام صرف ان کےجلسوں میں نعروں کے لیے ہی ہیں۔اس کے بعد عوام مرے یا جئے۔کرسی کے نشے میں دھت حکمرانوں کو کچھ لینا دینا نہیں ۔مہنگائی کا جن دن بدین مزید سے مزید طاقتور ہو رہا ہے۔ پہلے جو خاندان تیس ہزار میں گزارا کر رہا تھا اب ستر ہزار میں بھی ممکن نہیں۔زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پہنچ میں نہیں۔ دو وقت کی روٹی پورا کرناخواب بنتا جا رہا ہے ۔حکمرانوں کو چاہیے کہ اب آپس کی لڑائیوں سے نکلیں اور عوام کے بارے میں بھی کچھ سوچیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
عوام کو بھی چاہیےاچھے لیڈر کا انتخاب کریں ایک بریانی کی پلیٹ پراپنا ضمیرنہ بیچیں۔ اورآزمائے ہوئے کو بار بارنہ آزمائیں عوام سوچ سمجھ کر حکمرانوں کا انتخاب کریں۔کیونکہ ہمارے کل کا انحصار ہمارے منتخب انہیں حکمرانوں پر ہوتا ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ سنجیدگی سے ان مسائل کے حل پر غور کریں ورنہ ملک میں جرائم کی شرح دن بدن اور بڑھے گی ۔ایسے حکمرانوں کو منتخب کریں جن کے دل میں خوف خدا ہو اور عوام کے درد کو سمجھ سکیں اللہ ہمارے ملک کی حفاظت کرے اور اس کے مکینوں کو عقل و شعورسے نوازے اچھے لیڈر کے انتخاب میں ہماری مدد کرے۔ آمین





































