
محمودہ تفسیر
امام غزالی نےروزےکےآداب کوچھ نکاتی فارمولے میں انتہائی موثراورمدلل انداز میں بیان کیا ہے،حضرت جابرسے مروی ایک حدیث میں کہا گیا
ہے کہ
شہوت کی نگاہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لہذا۔
پہلا ادب یہ ہےکہ روزہ داراپنی نگاہ کو باحیا بنانےچنانچہ نگاہ اسی جانب جائےجوخیر اورحلال ہو۔
دوسرا ادب یہ ہے کہ زبان کوجھوٹ اورغیبت سے پاک رکھا جائے اوران کے خلاف روزہ کو ڈھال بنایا جائے۔
تیسرا ادب یہ ہےکہ اپنےکانوں کوصرف حق اورسچائی کی بات سننےکی ترغیب دی جائے اور غیبت سے مکمل پرہیز کیا جائےکہ یہ سننا حرام ہے۔
چوتھا ادب یہ ہےکہ اپنے اعضاء ہاتھ، پاؤں کوگناہ کی طرف بڑھنےسے روکا جائےاوراپنے پیٹ اور جسم کو حرام لباس اورغذا سےروکا جائے۔بہت سے روزہ دار ایسےہیں جن کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ انہیں بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
پانچواں ادب یہ ہےکہ افطار میں حلال کھانا بھی اعتدال کے ساتھ کھائے اورغذا کو اپنے اوپر بوجھ نہ بنائے۔
چھٹا ادب یہ ہے کہ روزہ مکمل ہونے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے حضوراستدعا کرتا رہے کہ وہ اپنی شان رحیمی سےاسے معاف کردے اور اس کےعمل کو قبول کرنے کا حکم دے کہ یہ اس کا اختیار ہے کہ وہ کسی عمل کو قبول کرےیا نہ کرے ۔
ان چھ آداب کااہتمام روزہ کونہ صرف تربیت، اصلاح اورحقیقی ضبط نفس کا ذریعہ بناتاہےبلکہ اس دنیاوی زندگی میں ظلم، استحصال 'کفروطاغوت اورشرک کے خلاف لڑنے کے لیے بہترین قوت اور صلاحیت پیدا کرتا ہے۔#





































