
سدرہ مظہر
لاہور میں ہونے والے فیسٹیول کے بارے میں اور اس کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کے بارے میں سن کر میں سوچ رہی تھی آخر اکیلی
جماعت اسلامی
کیا کیا کرے؟ کرونا وائرس ہے توجماعت اسلامی حاضر، پانامہ کیس کی پیروی بھی بس جماعت اسلامی پرلازم ہے۔ کراچی کے مسائل ہیں تو جماعت اسلامی ہے ناں، کےالیکٹرک کےخلاف جماعت اسلامی قانونی جنگ لڑے، بجلی کے بل زیادہ آرہے ہیں تو جماعت اسلامی، سیلاب زدگان کو جماعت اسلامی نہ صرف سنبھالے بلکہ انہیں مکان بھی بنا کر دے اور نئے سرے سے آباد ہونے کے لیے کسانوں کو بیج تک فراہم کرے۔ مہنگائی ختم کروانے کے لیے جماعت اسلامی دھرنے دے۔ کشمیریوں کے مسائل پہ جماعت اسلامی بات کرے۔ ایک جی بی ٹی کیو کے خلاف اس مردہ قوم کی آنکھیں جماعت اسلامی کھولے۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی کوششیں کرے۔ بے حس قوم کی مظلوم بیٹی عافیہ صدیقی کے لیے جماعت اسلامی ہر سطح پر آواز بلند کرے۔ اس نام نہاد اسلامی جمہوریہ میں سود کے خلاف قانونی جنگیں بھی جماعت اسلامی لڑے۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پہ جماعت اسلامی ان کا بھی دکھ بانٹنے کو حاضر ہو۔مسئلہ فلسطین پہ جماعت اسلامی لوگوں کو آگاہی دے۔ فلسطینیوں کے دکھ میں جماعت اسلامی شامل ہو۔ ان کے لیے فنڈ جماعت اسلامی اکٹھے کرے۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔
اور اب اس ناچ گانے کو روکنے کے لیے بھی جماعت اسلامی ہی میدان میں آئی۔ آفرین ہے صد آفرین ہے۔ بات یہ نہیں ہوتی کام "کون" کر رہا ہے۔ بات یہ ہوتی ہے کام "لیا" کس سے جا رہا ہے۔ ہزاروں بار الله کی رحمتیں ہوں مرشد مودودی پر جنہوں نے ایسے لوگ تیار کیے جو حق کے بارے میں واضح موقف رکھتے ہیں اور پھر اس پہ ڈٹ جاتے ہیں۔ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے کسی غلط بات پہ سمجھوتا نہیں کرتے۔ پھبتیاں کسنے والوں کو بھی ماننا پڑتا ہے آرٹیکل 62/63 کی بات آئے تو سراج الحق کے سوا کوئی مائی کا لال اس پہ پورا نہیں اترتا۔ ماننا پڑتا ہے کہ جماعت اسلامی کے کسی ایک کارکن پر کوئی ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکتا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود لوگ ووٹ نہیں دیتے تو نجانے کیوں مجھے قرآن کی وہ آیت ذہن میں آ جاتی ہے جس کا مفہوم ہے۔
آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں
لوگ کہتے ہیں اتنی جماعتیں ہیں سمجھ نہیں آتی کون حق پر ہے۔حق والوں کی نشانی قرآن کریم بتاتا ہےناں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات زندگی اٹھا کر دیکھ لیں۔ حق والے بڑے نامساعد حالات میں اور جب ظلم عروج پہ ہو تب کھڑے کیے جاتے ہیں۔ ان کےماننے والے ہمیشہ تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ غریب اور کمزور لوگ ذیادہ تعداد میں ہوتے ہیں۔ ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ناکامی سے ڈرایا جاتا ہے۔ ان کی باتوں کو دیوانوں کی باتیں کہا جاتا ہےاور وہ بس ایک جواب دیتے ہیں۔حق کی طرف آؤہم تم سے کچھ طلب نہیں کرتے ہمارا اجر تو رب العالمین کے پاس ہے۔
اپنے ایمان کے ساتھ فیصلہ کیجئے کیا جماعت اسلامی اپنے محدود ترین وسائل کے باوجود اس قوم کے لیے چومکھی جنگ نہیں لڑ رہی؟ کیا جماعت اسلامی لوگوں کو کھینچ کھینچ کر قرآن سیکھنے کی طرف نہیں لا رہی؟ اس بات کا لالچ دے کر بھی کہ کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ جو ذیادہ غریب ہیں ان کا کرایہ بھی ادا کیا جائے گا آپ بس قرآن کو سیکھنے کے لیےآجائیں۔ اجر ہم اپنے رب سے لے لیں گے۔
اگر آج فلسطین کے مسلمان مسجد اقصیٰ کے لیے پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں تو مجھے کہنے دیجئے کہ واحد جماعت، جماعت اسلامی پاکستان کے مسلمانوں کی طرف سے یہ فرض ادا کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا کا دور ہے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں آپ جماعت اسلامی کے امیر کاگھراوررہن سہن بھی دیکھ لیں اور دوسری جماعتوں کے لیڈروں کے گھر اور رہن سہن بھی دیکھ لیں۔ اگر پھر حق والوں کی سمجھ نہ آئے تو دل کے اندھے پن کا علاج رب العالمین کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔
مجھے وہ حدیث یاد آرہی ہے جس کا مفہوم ہے ۔ ایک صحابی نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم سے پوچھا" اے اللّٰہ کے رسول قیامت کب آئے گی" آپ نے فرمایا "تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے" انہوں نے عرض کی" میرے پاس تو بس اللّٰہ اور اس کے رسول کی محبت ہی ہے" آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا "قیامت کے دن ہر بندہ اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا جس سے وہ دنیا میں محبت رکھے گا"
مجھے بھی ان لوگوں سے محبت ہے جو اللّٰہ اور اس کےرسول سے محبت کرتے ہیں۔ جو اپنے جان و مال کے ساتھ اپنی پوری قوت کے ساتھ دین حق کے غلبے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے اللّٰہ میری تمام نااہلی کے باوجود روز قیامت مجھے بھی رسول اللّٰہ سے محبت کرنے والوں کے ساتھ اٹھائے۔ آمین
نوٹ :ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































