
سدرہ مظہر
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو نہیں گن سکتے۔
القرآن
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اورہمیں بچپن سے ہی بہت ساری چیزوں کے ارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی نعمت ہے۔ہرمسلمان اللہ کی بہت ساری نعمتوں کوجانتا ہے اور حسب توفیق ان کا شکربھی ادا کرتا ہے۔اللہ کی بہت ساری نعمتیں تو ہمیں نظرآتی ہیں، جیسے سورج،چاند،ستارے،ہوا،بادل،بارش، کھانے اور پینے والی تمام اشیاء وغیرہ۔ ہم تو انہیں بھی نہیں شمار کر سکتے۔
لیکن اللہ رب العالمین کی ایسی لاتعداد نعمتیں ہیں جن کی طرف کی کبھی ہمارا دھیان ہی نہیں گیا اورہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ " اچھا یہ بھی نعمت ہے" دو، تین آنکھوں دیکھےواقعات سناتی ہوں۔ ہمارے پڑوس میں بچے ٹیوشن پڑھنےآتے ہیں ، ایک بچی کی آنکھوں کے ساتھ کوئی مسئلہ ہےاور وہ تقریباً ہر ایک سیکنڈ کے حساب سے پلکیں جھپکتی ہےاس طرح کہ اس پلکیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اوراسے ٹھیک سے نظر نہیں آتا ۔
دوسرا واقعہ میرے انکل کاہےوہ آرمی میں تھے،جب بنگلہ دیش بنا وہ بھی اس جنگ میں شریک تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ "ہم ایک ٹینک میں سوار تھےکہ ہمارے اوپر گولہ گرا ٹینک دھماکے سے پھٹا اوراسےآگ لگ گئ"۔ یہ بھی شدید زخمی ہوئے اور آگ لگنے کی وجہ سے پلکیں تک جل گئیں اور بہت دھندلا دکھائی دینے لگا۔پاکستان آئے اور ڈاکٹر کے پاس گئے اس نے چیک کرنے کے بعد کہا " نظر بالکل ٹھیک ہے لیکن جب تک پلکیں دوبارہ سے نہیں آتیں تب تک صاف دکھائی نہیں دے گا"
تیسرا واقعہ میری ایک عزیزہ کاہے۔ وہ جب کھانا کھاتیں تو ان کےگلےمیں اٹک اٹک جاتا کبھی کبھی توانہیں ایک روٹی کھانے میں گھنٹہ لگ جاتا۔پھر ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے کہا " خوراک کی نالی کےاوپر کچھ آجانے کی وجہ سے وہ بند ہوگئی ہے، اس کو آپریشن کرکے ہٹانا پڑے گا۔"پچھلے دسمبر میں سی ایم ایچ کھاریاں سے آپریشن کروایا ہے۔ اور اس دسمبرمیں وہ پھر بند ہوگئی ہے اور تاحال بند ہے۔
کسی کسی دن تو پانی، چائے یا کوئی دلیہ وغیرہ کھا لیتی ہیں اورکبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو، تین دن تک پانی کا ایک قطرہ بھی حلق میں نہیں جاسکتا۔ میں ان کی عیادت کو گئی تو بڑے ترسے ہوئے لہجے میں کہہ رہی تھیں "دل کرتا ہے پانی کا گلاس بھر کے ایک سانس میں پی جاؤں "
تب میں نےجانا کہ گلاس بھر کے پانی پی لینا بھی اللہ کی نعمت ہے۔پلکوں کا ہونا بھی ایک نعمت ہے۔ پلکوں کا آنکھوں پرٹکے رہنا بھی ایک نعمت ہے۔اور وہ سب نعمتیں جن کی طرف کبھی ہمارا دھیان گیا ہی نہیں مثلاً ہم سب صبح اٹھ کرسب سے پہلے واش روم جاتے ہیں تو یہ بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہےکہ ہم تندرست ہیں ۔ کوئی یورن بیگ نہیں لگا ہوا اور بغیر کسی دقت کے اپنی حاجت سے فارغ ہو لینا بھی ایک نعمت ہے۔
کوئی کھٹا ہےتو کوئی میٹھا کوئی کڑوا ہےتوکوئی پھیکا،زبان کا چیزوں کے ذائقہ کو محسوس کر لینا بھی نعمت ہے۔ دانتوں کاچیزوں کو چبا لینا بھی نعمت ہے۔ ناک کا خوشبو اور بدبو کو سونگھ لینا بھی نعمت ہے۔ ہماری آنکھوں کا رنگوں کو پہچان لینا بھی نعمت ہے۔ ہمارے کانوں کا آوازوں کو سن لینا اور ہر آواز کو الگ سے پہچان لینا بھی نعمت ہے۔
یہاں تک کے لعاب دہن کا نگلا جانا بھی نعمت ہے۔( جب کبھی گلا خراب ہو تب سمجھ آتی ہے)میں نے ایک جگہ پڑھا تھا ایک آدمی کا لعاب دہن بننا بند ہوگیا تھا اوراسے ہر ایک،دو منٹ کے بعد اپنے منہ میں کوئی دوائی ڈالنی پڑتی تھی جس سے اس کا گلا تر رہے۔
ہم اپنے جسم میں چلتی ہوئی مشینری کو دیکھیں۔ ماغ ،دل، جگر،گردے ،پھیپھڑے، مثانہ،آنتیں ہرہرچیز اپنا کام ٹھیک طریقےسے کررہی ہے اور ہمیں پتا بھی نہیں ہمارے اندر کتنا پیچیدہ نظام چل رہاہےجس کے چلنے کے لیے ہم نےکبھی دعا نہیں مانگی۔ مثلا
کبھی کسی نے کہا ہے کہ " اللہ میرے ہاتھ لقمہ بنا سکیں اور اسے منہ تک لے جا سکیں؟ میرا منہ لقمے کو چبا لے اور میں اسے نگل سکوں؟
میرا معدہ ہضم کرتا رہے؟میرے گردے،پھیپھڑے،دل،جگر وغیرہ اپنا کام کر سکیں؟مجھ سمیت ہم میں سے کبھی کسی نے یہ دعائیں نہیں مانگیں کیونکہ یہ ساری نعمتیں بن مانگے ہی ملی ہوئی ہیں، اس لیے تو ہم نے کبھی ان کو نعمت سمجھا ہی نہیں۔ رات کو گہری نیند سوتےہوئے خود بخود کروٹوں کا بدلا جانا بھی نعمت ہے۔
انسانوں نے بہت ترقی کر لی ہےکام کرنے کے لیےروبوٹس تک بنا لیے ہیں لیکن جو کام انسانی ہاتھ کرتا ہے،وہ سارے کام کرنا روبوٹس کےبس کی بات نہیں تو ہماری انگلیوں کا خاص ترتیب سےچھوٹا اوربڑا ہونا بھی نعمت ہے۔
ہمارے جسم کا ایک حصہ پاؤں بھی توہیں۔ بظاہر چند انچ کاایک ٹکڑا لیکن جسم کا توازن انہیں پہ برقراررہتا ہے۔یہ نہ ہوتے تو شاید انسان ہر قدم پہ منہ کے بل گرتا۔
ہمارے پاؤں کا ہونا بھی ایک نعمت ہے۔
اورہمارے گھرجن میں ہم نے پورے پورے سال کی خوراک جمع کر رکھی ہے۔پیٹ بھر بھرکےکھاتے ہیں اورامن وسکون کے ساتھ اتنی گہری نیند سوتے ہیں کہ غزہ کے بے گھروں اور بھوک سےمرنے والوں کی فریادیں اتنےمہینے گزر جانے کے بعد بھی ہمیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکیں اورنہ ہم نے کبھی اس بات پہ شکر ادا کیا کہ ان گھروں میں امن کی حالت میں رہنا بھی بہت بڑی نعمت ہے۔آگ ،پانی ،ہوا ،مٹی ،سردگی ،گرمی ،بارش سب اللہ ہی کی نعمتیں ہیں۔
اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے یہ چند نعمتیں میرے ذہن میں آ سکی ہیں جوپیدائش سے لیکر موت تک ہمارے ساتھ موجود رہتی ہیں اور ہم نے کبھی بھی ان کا شکر ادا نہیں کیا کیونکہ ہمارا کبھی دھیان ہی اس طرف نہیں گیا کہ " اچھا یہ بھی نعمت ہے"





































