
سدرہ مظہر
مظلوم فلسطین، انبیاء کی لہو لہو سر زمین، وہ ارض مقدس ڈیڑھ ارب نام نہاد،وہن زدہ مسلمان جس کےقرض دار ہیں۔ اس پر ہونے والے ظلم کسی
سے ڈھکے چھپے نہیں۔لاشوں کے انبار جن کو گننے والے تھک چکے ہیں اور دیکھنے والوں کا کلیجہ منہ کو آتا ہے میں ان کی بات نہیں کروں گی۔ میں تو اس بات پر دکھ سےمر رہی ہوں جو لاہورمیں کلچر فیسٹیول کےنام پہ ناچ گانےکیے جائیں گے۔حیرت کی آخری حد بھی جہاں ختم ہو جائے یہ بات وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اتنی سنگدلی؟؟؟ ایسے بےحس، مردہ دل اور مردہ ضمیر والے جو اوقات سے اتنے باہر ہو رہے ہیں کہ رب العالمین کی طرف سے ایک ہلکا سا جھٹکا ہی اوقات میں لانے کے لیے کافی ہوگا۔
اس قوم کے بے ضمیر اور بے غیرت حکمرانو! کیا تم سب کے لیے اتنا کافی نہیں کہ بڑے ظرف اور بڑے حلم والارب تمہیں مہلت دئیے جارہا ہے؟ وہ ماؤں کی گودیں اجڑتے اور بچوں کو یتیم اورلاوارث ہوتے دیکھ رہا ہے وہ فلسطینیوں کی بے بسی اور تمہاری بےحسی دونوں کو دیکھ رہا ہے اور یہ اس کے ظرف کی کیسی بڑی مثال ہے کہ وہ تمہاری پکڑ نہیں کررہا لیکن تم سب اس کے غضب کو دعوت دینے پر کیوں تلے ہوئے ہو؟؟؟
کسی شاعر نے کہا تھا
بیچ کر تلواریں مصلے خرید لیے تم نے
بیٹیاں لٹتی رہیں اور تم دعا کرتے رہے
یہ بات بھی پرانی ہو گئی ہے،اب بے حسی اتنی ہوگئی ہے کہ ایک طرف بیٹیاں لٹ رہی ہیں اور دوسری طرف بیٹیاں نچائی جا رہی ہیں جن سے رقص وسرود کی محافل منعقد کی جاتی ہیں وہ بھی توکسی کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔
استاد محترم نےکہا تھا کسی کا نام لےکر بات نہیں کرنی میں اس حکم عدولی پربہت معذرت خواہ ہوں لیکن مجھے سوال کرنے دیجئے۔ان عاشقان رسول سے جنہوں نے سروں پہ پٹیاں باندھ کرمیلاد کے جلوس نکالے اور لبیک کے نعرے لگائے اسی میلاد کے مہینے میں اسی نبی کریم کی امت کٹ کےمر رہی ہے۔ کدھر ہیں سارے عاشقان رسول؟ مجھے کہنے دیجئے میرے میٹھے میٹھے اسلامی بہنوں اور بھائیوں سے اور ان کے رہنماؤں سےجن کے ہرملک میں کئی کئی لاکھ چاہنےوالے ہیں۔ کیا کررہے ہیں وہ مدینے والے کی امت کے لیے؟ صرف دعا؟ دعائیں کرنا عورتوں کا کام ہے،مرد میدان عمل میں ہی اچھے لگتے ہیں۔
اسلام تلوارسے نہیں اخلاق سےپھیلا ہے یہ بات بالکل درست ہےلیکن بدروحنین کے ابواب بھی اسلامی تاریخ کا حصہ نہیں کیا؟ مجھے کہنے دیجیے ان لوگوں سے جو سارا سال تبلیغ کے لیے اپنی جان مشقت میں ڈال کے رکھتے ہیں اور اب بھی وظائف کے ذریعے حالات کو پرامن رکھنے کی بات کرتے ہیں وظیفے کرنےسے لوگوں کو ہدایت مل سکتی یا دشمن اپنی دشمنی سے بازرہ سکتے تو رسول اللّٰہ کی زبان سے زیادہ تاثیر کس کی زبان میں ہو گی؟ پھر انہوں نے وظائف اور دعاؤں سے ہی حالات اپنے حق میں کیوں نہ کر لیے میدانِ احد میں جا کر اپنے دندان مبارک شہید کروانے اور چچا کا مثلہ کروانے کی تو کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔جو شہد کو جھٹلا دے اسے زہر دینا ضروری ہو جاتا ہے۔یہ بات اب ہمیں بھی سمجھ لینی چاہیئے۔
مجھے پوچھنے دیجئی تمام "انصافیوں""جیالوں""متوالوں" سےجو اپنےاپنے جھوٹےلیڈروں ک لیےمرمٹنے کو تیار ہوتےہیں۔ انہوں نے اپنے "سچے اور سب سے بڑے" لیڈر کی مظلوم امت کے لیے کیا کیا؟
مجھے کہنے دیجیے عرب میڈیا آؤٹ لیٹ "الجزیرہ" نےحکومت پاکستان کو"خاموش تماشائی" سے تشبیہہ دی توغلط کہا۔ حکومت پاکستان نے تو مظلوموں کے حق میں بات کرنے والوں کے بینرز پھاڑے۔ ان پر لاٹھیاں برسائیں اور انہیں جیلوں میں بند کر کے یہود و نصارٰی سے پورا پورا ""نمک حلالی"" کا ثبوت دیا۔
ایک مولوی صاحب کو کسی زمیندار نے زمین کا ایک ٹکڑا دیا۔مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ فصل بوئی اور اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔ چند روز گزرے ایک گدھا کہیں سے آ نکلا اور فصل اجاڑنے لگا۔ گدھا فصل اجاڑ رہا تھا اور مولوی صاحب بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔ ایک کسان کا ادھر سے گزرہوا اس نے پوچھا حضرت جی گدھا فصل اجاڑ رہا ہے اور آپ پاس بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ مولوی صاحب بولے کیا کروں بھائی صاحب ہر وظیفہ کر کے دیکھ لیا ہے۔ ایک مرغی اور بکری کے بچے کا صدقہ بھی دے چکا ہوں لیکن گدھا باز نہیں آرہا۔ یہ سن کر کسان نے ایک ڈنڈا اٹھایا گدھے کو دو،چار ڈنڈے رسید کیے تو گدھا کھیت سے باہربھاگ گیا۔ کسان بولا مولوی صاحب ہرکام وظیفےسے نہیں ہوتا، کچھ کام ڈنڈے سے ہی کرنے پڑتے ہیں۔
امت مسلمہ کو سمجھ لینا چاہیے اسرائیل ڈنڈے سے سمجھنے والا گدھا ہے۔ دعاؤں اور وظیفوں سے کام نہیں چلے گا لیکن اس امت کی بے حسی دیکھ کر ڈر لگتا ہے۔ کیا ہم سب بھی خدا کی طرف سے برسنے والی لاٹھی کے منتظر ہیں؟؟؟
اندازِ بیان اس لیے بہت سخت ہے میرا
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
نوٹ : ایدیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































