
زہرا یاسمین
حکمراں طبقے کی بے حسی خود غرضی عیش پرستی حرص و ہوس اورمفاد پرستی کی کوئی حد نہیں ۔یہ شرم اور غیرت سے عاری ڈھیٹ
ٹولہ ہے ۔ اس پر پاکستان کے عوام کی خاموشی حیران کن ہے۔ ایک جماعت اٹھتی ہےاورآواز اٹھاتا ہےاور بار بار عوام کو جمع کرکے احتجاجی دھرنے جلسے و مظاہرے کرتا ہے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز سنی ہی نہیں جاتی بلکہ زور زبردستی اور تشدد کرکے انکی آواز دبادی جاتی ہےکیونکہ عوام کی ایک کثیر تعداد خاموش رہتی ہے۔ اپنے جائز حقوق کے لیے کھڑی ہی نہیں ہوتی جو غریب اور سفید پوش لوگ کھڑے ہوتے ہیں ،حیران ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا ۔
بس یہی کہنا ہے پاکستان کی عوام سے کہ فیض نے جوکہا تھا کہ بول کے لب آزاد ہیں تیرے ، بول آہنگر کی دکاں میں سرخ ہیں شعلے تند ہیں ،آہن پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن ۔
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے جسم و زباں کی موت سے پہلے بول جو کچھ، کہنا ہے کہہ دے۔
بول کے لب آزاد ہیں تیرے۔
تو عوام بولے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائےاور آوازاٹھانے والوں کےساتھ آواز اٹھائے ،اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔ حدیث کی رو سےظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے۔ کوئی سنے یا نہ سنے عرش والا تو ضرور سنے گا۔ اصل اختیار و اقتدار تو صرف اسی کے پاس ہے وہ کن کہتا ہے ہو جاتا ہے۔ ساتھ رب سے مدد بھی مانگیں ۔ اس سے پہلے وقت نکل جائے اور رب مزید ناراض ہوجائے۔
اللہم لا تسلط علینا من لا یرحمنا۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































