
زہرایاسمین
قارئین کرام! آپ سے التماس ہے کہ ہمیں بچوں کے سامنے زبان کا استعمال بہت محتاط انداز میں کرنےکی ضرورت ہے ،بچےایسے الفاظ منہ
سے نکالتے ہیں جن کے معنی بھی انہیں نہیں معلوم اور وہ الفاظ مہذب و شائستہ اطوار کے حامل گھرانوں میں معیوب سمجھے جاتے ہیں۔ میرے مشاہدے میں ایسے بہت سے واقعات آئے ہیں، جن میں بچے والدین کے استعمال کردہ ناشائستہ الفاظ بے دھڑک استعمال کرتے ہیں ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جی ہاں بچوں کے سامنےغیر مہذب الفاظ استعمال کرنے والے والدین۔ اس بات پر دل بہت دکھی ہوا۔لہٰذا والدین کو متوجہ کرنے اور اپنی اصلاح آپ کرنے کے لیے چند مثالیں آپ کےسامنےرکھ رہی ہوں؛ ( بہت سےناشائستہ الفاظ ایسے ہیں جنہیں ضبط تحریر میں لانا کم از کم میرے لیے ناممکن ہے)
ایک گھرانے میں والدین جو بچہ یا بچی باہر ذرا زیادہ جائے تو کہتےہیں آوارہ ہوگیا/ ہوگئی ہے۔ ان کے گھر کےبچےبلا سوچےسمجھے کسی کو بھی آوارہ کہہ دیتے ہیں۔ اس گھرانے کے ایک بچے نے ایک دوسرے گھرانے میں جہاں دادا طبیعت گھبرانے پر اکثر باہر ٹہلتے اور کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں ،پہلے گھرانے کےبچے نے ان کے پوتے سے کہا کہ تمہارے دادا ہر وقت آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں۔ تیسرے گھرانے کی دیڑھ پونے دو سالہ بچی گرمی اور گھرمیں رہ رہ کر پریشان ہورہی تھی ،ایسے میں اسے دو بار باہر ٹہلانے لے گئے تو اس بچی کے بارے میں اس کی دادی کو کہا یہ بچی تو بالکل آوارہ ہوگئی ہے۔ جب گھر والوں متوجہ کروایا تو معصومیت سے جواب ملا اسے تو معنی ہی نہیں معلوم ویسے ہی کہیں سے سن کر بول دیا ہوگا۔ اس بچے/ بچی نے فوراتصحیح کی کہ آپ لوگ ہی تو ہمیں زیادہ باہر جانے پر آوارہ کہتے ہیں، اس میں کیا بری بات ہے۔
ایک گھرانے میں والد غصے میں کسی کو گندا نجس جانور پگ اردو میں(سور) کہتے ڈوگ/ کتا / کمینہ کا لفظ بھی بے دریغ استعمال کرتے ۔وہاں کے بچے لڑائی میں ایک دوسرے کو یا کسی کو بھی یہی لفظ بولتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو یا کسی اور کو بڑے مزے سے سور کتا اور کمینہ بھی کہہ دیتے ہیں، ایسے مواقع پر اس گھرانے کے بڑے اپنی صفائی میں کہتے ہیں کہ باہر کھیلنے جاتےہیں اسکول سے بھی ایسے الفاظ سیکھ لیتے ہیں۔ ان بچوں کےوالد کو بڑا غصہ آیا اور اپنے بچوں کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ خبردار جو آئندہ ایسے الفاظ منہ سے نکالے ورنہ حشر کردوں گا ،گھر تو چلو سور کے بچو ،کتے کمینوں بتاتا ہوں۔ بچے ہنسنے لگے آپ سے ہی تو یہ سیکھایاہے ،گھر پر تو آپ لوگ کچھ نہیں کہتے ہیں۔ اب بچوں کو زبر دستی کے جاکر گاڑی میں بٹھا دیا اور ہارن دے کر گھر والوں کو جلدی چلنے پر مجبور کردیا ۔ راستےمیں ہاتھوں اور انہی الفاظ سے بچوں کی تواضع جاتی رہی۔
اس موقع پر یہ شعر ذہن میں کلبلایا
*ہم بھی وہیں موجود تھے
ہم چپ رہے ہم ہنس دیے
منظور تھا پردہ تیرا ۔
نوٹ۔ اس صورتحال سے دل بہت دکھا تو بہت دل کڑا کر کے کچھ ناشائستہ الفاظ لکھے ہیں۔ تاکہ والدین ناشائستہ الفاظ کا استعمال چھوڑ دیں۔ علامہ اقبال کی طرح میں بھی یہ سمجھتی ہوں کہ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے





































