
زہرا یاسمین / کراچی
بچے تو سب کو پیارےلگتے ہیں زیادہ تروالدین اپنی حیثیت واستطاعت کے مطابق بچوں کی جائزفرمائشیں ان کی خوشی کے
لیےپوری کرتے ہیں۔ ان کی پسند کے پکنک پوائنٹ لے جانا ،پسند کے ریسٹورینٹ میں کھانا کھلانا، پسند کھلونے کپڑے جوتے دیگر ضرورت کی چیزیں دلانا۔ اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق سب ہی کرتے ہیں۔ بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمندی اچھے اسکول کالج میں داخلہ ساتھ ٹیوشن اور کوچنگ بعض اوقات چند نمبروں کی کمی کے باعث بچوں کو سیلف فنانس یا پرائیویٹ اداروں سے مطلوبہ تعلیم دلوانا بچوں کے روشن مستقبل کی خاطر والدین تکلیف اٹھاتے ہیں مسائل کا سامنا کرتے ہیں لیکن کیا کبھی سوچا ؟ جہاں ہم سب کو ہمیشہ رہنا ہے جہاں ابدی قیام گاہ ہے،اس کے لیے خود اپنی اور بچوں کی کیا تیاری کروائی کیا کوشش کی؟ ہماری زندگی کا دائرہ کارمیں میری بیوی/میرا شوہر،میرے بچے، والدین بہن بھائی دوست احباب تک محدود رہتا ہے۔
میرا پڑوسی میرے رشتہ دار دفتر/ کام کی جگہ کے ساتھی،معاشرے کےدیگر لوگ کیسے ہیں اردگرد کیا ہورہاہے؟ لوگوں کے ہم پر کیا حقوق عائد ہیں؟ ہم یہ سب نظر انداز کیے بیٹھے ہیں۔ خود غرضی نفسانفسی یا شیخ اپنا اپنا دیکھ کےمصداق اپنے آپ سے کام رکھنا اگلا پچھلا جائے بھاڑمیں ہمیں کیا۔ لاپروائی کی یہ روش نہ صرف اللہ کے نزدیک بلکہ دنیا والوں کے لیے بھی پسندیدہ نہیں۔
ایسی صورتحال سےمایوس نہیں ہونا بلکہ اس کو بہتر بنانا ہے زندگی میں توازن پیدا کرنےکی کوشش کرنی ہے۔ اپنے معمولات زندگی کا جائزہ لے کر دن کا کچھ وقت عبادت حصول علم دین بیماروں کی عیادت خبرگیری کرنا ۔ انتقال پر تعزیت کے لیے نکالیں۔ عموماً ہوتا یہ کہ انتقال کی خبر سنی اسٹیکرآنا للہ کایا دعا کا بھیج دیا ،بیمار کو اسٹیکر بھیج دیا دعا کا سمجھا کہ بھئی عیادت اور تعزیت ہوگئی۔ ایک کمرے میں دس لوگ بیٹھےہوتے ہیں سب موبائل پرلگےہیں۔ کوئی زیرلب مسکرارہا ہے،کسی کے چہرے پر دکھ اور افسوس کے آثار ہیں۔
بہت وقت فضول گزار لیا اب کچھ کردکھانا ہوگا۔ موجودہ دور کے فتنوں( مختلف گیجٹس) کےسحرسے باہر نکلیے۔ انسان دوست بنیں اجتماعیت میں برکت ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکا مات کو سمجھ کر ان پر عمل کرکے اپنی اور اپنے اور بچوں کی دنیا و آخرت دونوں سنوارنے کی فکر کریں قبل اس کے کہ زندگی مہلت عمل ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آ مین۔





































