
طیبہ شبیر
بچپن سے جب بھی ٹیلی ویژن پر مسجدالحرام میں لوگوں کو اجتماعیت کےساتھ طواف کرتےیا نماز کے دوران اجتماعیت کے ساتھ رکوع وسجود کرتے
دیکھتی تو انجانی سی خوشی و رعب سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ تب میں سوچا کرتی تھی کہ تمام مسلم امت بھی انہی مناسک حج کی طرح ایک ہے اور ہماری یہی اجتماعیت ہماری طاقت ہے۔
جب دشمن ہمیں اتنی زیادہ تعداد میں اکٹھے اجتماعیت کےساتھ رکوع وسجود کرتےدیکھتاہوگا تو خوف سےلرز جاتا ہوگا۔ ہمیں کوئی ہرا یا جھکا نہیں سکتا۔ ہم ایک طاقتور قوم ہیں۔
وقت گزرنے اور عمر کی منزلیں طےکرنےکےساتھ ساتھ علم وفہم میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا،حالات وواقعات کو سمجھتے اور جانچتے ہوئےمیں نے جانا کہ بظاہر مسجد الحرام میں دکھائی دیتی امت کی اجتماعیت دراصل صرف مسجد ہی تک محدود ہے جبکہ امت میں اتحاد نام کی کوئی چیز نہیں۔ جب سنا کہ ایران نے اعراق پر حملہ کیا ہے تو انتہائی حیرت ہوئی۔ کانوں پر یقین نہ ہوا۔ پھر جب میرے کانوں نے یہ سنا کہ مشرف نے افغانستان پر حملہ کرنے کے لئے امریکہ کو اڈے دئے ہیں تو دل دکھ سے جیسے پھٹنے کو تھا مجھے یاد ہے میں بے انتہا روئی لگا سانس بند ہو جائے گا۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا لیکن دل سے یہ سوال نہیں جاتا تھا کہ کیا اس ۔۔۔۔۔۔ کے اس قبیح فعل کے باعث ہماری بھی پکڑ ہوگی؟؟؟
جب افغانستان نے امریکہ کو مار بھگایا تو افغانیوں کی جیت پر ہم ایسے خوش تھے جیسے مسلمانوں نے غزوہ ہند فتح کر لی ہو۔ اسی طرح آج مجاہدینِ فلسطین کی فتوحات کی خبریں پڑھتےہوئے بھی بہت خوشی ہوتی ہے۔ مجاہدین کا رعب و دبدبہ اور کفار کی بوکھلاہٹ و بزدلی پر دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگتا ہے ۔
آج ایک مجاہدینِ فلسطین کی کامیابی دیکھتے ہوئے یہ خیال آیا کہ جس طرح مسجد الحرام میں ہررنگ ونسل کے مسلمان صف بہ صف اجتماعیت میں رکوع وسجود کرتے ہیں اگر اسی طرح ہر رنگ و نسل کے تمام مسلمان میدان جنگ میں بھی اجتماعیت کے ساتھ دشمنِ اسلام کے مقابل ڈٹ جائیں تو ان کے رعب و دبدبے سے ہی دشمن کی سٹی گم ہو جائے گی اور تمام جدید ہتھیار ہونے کے باوجود مقابلے کے قابل ہی نہ رہے گا۔
عین ممکن ہے کہ وہ مقابلہ چھوڑ کر ہی بھاگ جائے۔ کیا شان ہو تب امت مسلمہ کی۔ یارب العزت جلد میرے اس خیال کو حقیقت میں بدل کر دیں۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔





































