
عریشہ اقبال
ساحل کے کنارے پر اس سیپ کی جانب اس کی نظریں ٹہھر سی گئیں !لبوں پرمسکراہٹ اور آنکھوں سے موتی چھلکنے لگے۔دل ایک الگ ہی اطمینان کی
کیفیت میں مبتلا تھا ۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے اس سیپ کی جانب بڑھنے لگی اور قریب پہنچ کر وہ اپنےکپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے اس کو اٹھاکر کھولنے لگی اندر ایک انتہائی خوبصورت چمکتا ہوا موتی رکھا ہوا تھاجس کی خوبصورتی آنکھوں کوخیرہ کررہی تھی ، وہ بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
پتہ ہے کیوں ؟
کیونکہ اسے وہ آیت یاد آئی تھی
"وہ ایسی ہیں جیسے سیپ میں چھپایاہوا موتی "
اسے بے اختیار اپنےرب کی محبت شدت سے محسوس ہوئی تھی۔
اسے وہ لمحہ یاد آیا تھاجب اس نے خود کو جنت کی حوروں کی ملکہ کرنےکا عہد کیا تھا۔
اس کے وجود کو وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت تڑپا گئی تھی جس محبت کا ثبوت آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے امت کی مغفرت کے لیے بہائے گئے آنسو تھے۔
ان کی قربانیاں تھیں
وہ ایک لمحہ گویا اسے وہ مسیحا لگ رہا تھا جس نے اس کے سارے غموں کا مداوا کردیا ہو ۔
سارے شکوے دور کردیے ہوں ،تمنائیں پوری ہوگئی ہوں ۔ اس نے بے اختیارسجدہ شکر ادا کرتے ہوے یہ جملہ کہا ہاں اب میں اپنے رب کی محبت سے واقعی آشنا ہوگئی ہوں ۔





































