
نیرنگ خیال / عریشہ اقبال
ایک لمحہ! یا پھر ایک مقام ہے،میرے نزدیک محبت ایک راز کی مانند ہے ۔ایسا رازجو کھلتا بھی اسی پرہےجو اس کی تڑپ رکھتا ہے،جسے اس کی
چاہت ہو اوراس تڑپ اورچاہت کا جستجو سےانتہائی گہراتعلق ہےمیں سوچتی ہوں کہ دنیامیں محبت کا دعویٰ کرنا ہی محبت کی دلیل بن چکا ہےجبکہ حقیقت تو یہ ہے محبت ثبوت مانگتی ہے،محض اقرار کرتے رہنے سے نہ تو محبت میں سچائی ہوگی اور نہ ہی اس کا کوئی مقام و مرتبہ ہوگا ۔
اس محبت کے راز کوآشکار کرنا اوراس میں موجود تاثیر کوپالینا اگر اتنا ہی آسان ہوتا تو رسول اللہ بھی محض دعویٰ کرنے کو کافی سمجھ لیتے اور قربانیوں کی راہ اختیار نہ کرتے اگر محبت کی راہ پھولوں کی سیج ہوتی تو حضرت خباب بن ارت رضی اللّٰہ عنہ کے زخموں کو یوں آگ سے داغا نہ جاتا ۔حق محبت کی کہانی اگر لفاظی پر ہی مشتمل ہوتی تو آئیے ایک تصویر کو دیکھتے ہیں۔
فاطمہ بنت محمد کے جسم مبارک پرچکیاں پیس پیس کر گڈے پڑ گئے ہیں،سارے گھر کا کام خود کرتی ہیں اورساتھ میں بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کا بھی فریضہ انجام دے رہی ہیں ،جب رات ہوئی تو اپنے شوہر حضرت علی رضہ اللہ عنہ سے درخواست کرتی ہیں کہ شوہر کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہے، اگر آپ کی اجازت ہو تو کچھ دیر اپنے رب کو راضی کرنا چاہتی ہوں ۔ یہ ہے محبت کی اصل حقیقت ،یہی ہے وہ ربوبیت کا احساس جس کو حب الہیٰ کہتے ہیں
یاد رکھیے محبت کا اصل مرکز محبت کی حقیقی روح ایک پوشیدہ راز ہےاور وہ راز اسی پرآشکار ہوسکتا ہے جو اپنے وجود کو رضائے رب کی تلاش میں سرگرداں رکھتا ہے۔وہ اپنی کو اللہ تعالیٰ کےلیے قربان کرتا ہے۔ایسا شخص جہاں کہیں بھی ہوتا ہےاپنےرب کو اپنے ساتھ محسوس کرتا ہےکیونکہ وہ محبت کے اس راز کو پالیتا ہے۔اللّٰہ تعالیٰ سےبہت دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اتنا بدل دیں کہ وہ ہم سے محبت کرنے لگیں اور ہماری زندگی کےہر پہلوکو صبغتہ اللّٰہ سے آراستہ کردیں آمین یا رب العالمین ۔





































