
عریشہ اقبال
اپنی گود میں پالے ہیں پیغمبر اس نے
مسلماں پر واجب ہے اقصیٰ کا تحفظ کرنا
اس داستان الم کوجب سوچتی ہوں توقلب کے ہمراہ روح بھی تڑپ اٹھتی ہے۔ بربریت کی انتہا کردی گئی ۔ظلم حد سے بڑھ چکا ۔ حیوانیت کےانگاروں سےغزہ جل رہاہے۔ یہ ان معصوم بچوں کا خون نہیں بلکہ عالم اسلام کے لیے ایک کڑاامتحان ہےکہ جب انسانیت کی حدود کو پامال کیا جارہا ہے۔ ہرفرد کو یہاں خود سےوابستہ مفادات کی فکر ہے۔ نام نہاد اسلامی مملکتیں اوران کے حکمرانوں نے خدائے برتر کی ذات کےبجائے ڈالر کو اپنا ایمان بنالیا ہے۔
امت پر اس وقت جہاد فرض کفایہ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس وقت جہاد فرض عین قرارپاچکا ہےمگر یہ تسلیم کرنا تودرکناراس کااحساس بھی گویا گناہ کبیرہ معلوم ہونے لگا ہے۔
اپنے دل پرہاتھ رکھ کرپوچھیےکہ روز قیامت کیا عذرپیش کریں گےجب یہ معصوم اور بے قصور بچے اپنےلہو کی بابت سوال کریں گےاور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی جناب میں اپنے وکیل کے طور پر پیش کریں گے ؟؟؟؟
مجھے شدید افسوس ہے ان ماؤں پرجو حافظ قرآن بنانےکی فکر میں عامل قرآن بنانے کو فراموش کرچکی ہیں اوراس خیال کو لےکر میری روح شدید زخمی ہےکہ امت کی راہنمائی کرنے والے علما و مشائخ نے تقویٰ کے بجائے فتویٰ کو ایمان کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اورصرف یہی نہیں۔۔۔۔ شرم سے ڈوب مرنےکا مقام ہے کہ جس سرزمین پراسلام کوعروج نصیب ہوا وہیں پرموجود مسلمانوں کےمرکزخانہ کعبہ کی تقدیس اوراس کی حرمت کا دعویٰ کرنے والےعرب نے جہاد کو بدنام کیا ہے۔ قبلہ اول کی حرمت کا ثبوت تو وہ سینہ سپر ہوکر لڑنے والے حماس کے مجاہدین ہیں۔جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ بارگاہِ الٰہی میں پیش کرکے جام شہادت نوش کیا ، یہ ہیں وہ اصحابِ بدر کہ جن کے لیے فرشتے اتار دیے جاتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ مجاہدین اسلام جنہوں نے حسینیت کو ایک بار پھرزندہ کیا اوریہ ہیں وہ انصار کہ اکثریت نےجب اسلام کی حمایت کا انکار کیا تو رسول اللہ کی رفاقت میں پرچم اسلام کی خاطر خود کو پیش کیا ۔ خدارا اب اس آغوشِ غفلت سے بیدار ہوجائیے، محض القدس لنا کہہ دینے سےیہ فرض ادا نہ ہوگا، اگر یہ کہنا ہی اتمام حجت ہوتا تواحد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی نہ ہواہوتا۔
اگر اسلام کی سربلندی کے لئے صرف باتیں ہی مطلوب ہوتیں تو طائف کےراستوں پر نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پیر زخمی نہ ہوئے ہوتے۔ یہ کفار کے خلاف اعلان جنگ کا وقت ہے ۔ یہ وقت جذبہ شہادت سے اپنے دل کو سرشار کرنے کا وقت ہے ۔ رضائےرب کے چراغ سے اپنی روح کو روشن کیجیے،کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔
اور روزمحشر ہم رحمت الہٰی سے محروم نہ ہو جائیں ،جہاں کہیں بھی جیسے بھی حالات میں آپ موجود ہیں،عمل کی راہیں ہموار کرنے کی کوششیں تیزکردیجیے۔
اپنی نسلوں کا مستقبل تاریک ہونےسےبچالیجیے،خداراان کوجہاد کےلیےتیارکیجیے ہم کب تک ان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے۔ ہماری نسل کو ٹک ٹاکرز وی لاگرز کی نہیں بلکہ ابوعبیدہ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کوراہ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائےاور حماس کے مجاہدین کی مدد ونصرت کےساتھ ان غازیوں کے قدموں کو ثبات عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین اور روزمحشر ہمیں اہل فلسطین کی حمایت کرنے والوں اور قبلہ اول کی حرمت کے حقیقی پاسبانوں کے ساتھ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے۔ آمین
نوٹ :ایڈیٹر کا بلاگرکے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































