
عریشہ اقبال
وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
زندگی گویا کسی حباب کی مانند ہےجو ایک خاص وقت تک اپنی ہئیت برقرار رکھتا ہے اور پھر اپنےمقررہ وقت پرسانسوں کی ڈور ٹوٹ جاتی ہے ۔میں خیالوں کی دنیا بنتے ہوئےایک لمحے کو ٹھہر گئی اور وہ لمحہ کسی آئینے کی حیثیت رکھتا ہے
کیونکہ آئنے کا بنیادی مقصد حقیقت کو آشکار کرنا ہوتا ہے آئنہ ہمیں وہی عکس دکھاتا ہے جیسا ہم اس کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔مگر زرا ٹھہریے میری یہاں مراد ہر گز وہ آئنہ نہیں جو ہمارا بیرونی عکس دکھاتا ہے بلکہ میں تو اس آئینے کی بات کررہی ہوں جس کو اللہ تعالیٰ فطرتاً میرے اور آپ کے وجود کے اندر رکھا ہے اور اس کا سب سے اہم جز نفس لوامہ ہے جو برائ پر ملامت کرتا ہے
حدیث میں آتا ہے کہ
"ایک مومن دوسرے مومن کا آئنہ ہے"
ان خیالات کی دنیا میں سفر کرتے ہوئے جب میں ٹہری تو دل ڈوبنے کی سی کیفیت اختیار کر گیا کیونکہ وہ اپنے اندر ایک صدا لیے مجھے اور میرے قلم کو پکار رہا تھا وہ پکار امت کی بیٹیوں کے حق میں تھی جن کو رسول اللہ نے جنت کی بشارت کا ذریعہ بتایا تو کبھی ماں کی صورت میں وہ مقام
دیا کہ اس سے بلند مقام کی مثال انسانی
حقوق اور رشتوں میں شاید ہی کسی کو مل سکےاور پھر ان آنسوؤں کو سوچ کر میراوجود کانپ اٹھا کہ جس امت کی خاطر وہ حسین آنکھیں بارگاہِ الٰہی میں اشک بار ہوئیں اس کی قدر سے آشنائی تو درکنار اس کا احساس تک باقی نہ رہا ۔۔۔۔۔
!!!افسوس در افسوس
جس عورت کو رسول اللہ نے آبگین جیسی انمول مثال سے تعبیر کیا جو شیشے سے بھی نازک ہے اورجس عورت کوگوہرِنایاب کا درجہ دیا گیا وہ اپنے مقام اور مرتبے کو 14 فروری کے روز یوں پیروں تلے روند کر پامال کررہی ہے اور میڈیا پر اس کی تشہیر گویا کسی مقدس فریضے کی سی حیثیت رکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے معاذ اللہ
!! اے بنت حوا
تم کہاں محبت کو تلاش کررہی ہو ؟؟؟
یہ محبت کے دعوے یہ وفا کی قسمیں تو شیطان کا وہ جال ہیں جو تمہیں اپنےشکنجے میں پھانس کر ایک ایسی دلدل میں دھکیلنا چاہتا ہے جس کا انجام وہ رسوائ ہے جو تمہاری عزت ،تمہارے وقار اور تمہارے ایمان کو چھین لے گی جس محبت کی دلیل محبت کو تخلیق کرنے والے رب اور اس کے محبوب نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں نہیں وہ کہاں سے کامیابی کی ضامن ہوگی خدارا اپنے ایمان کا سودہ نہ کریں آپ کی شخصیت کا وقار اور آپ کی خوبصورتی آپ کی حیا میں پوشیدہ ہے آپ کو تو خود کو جنت کی حوروں کی ملکہ کرنا ہے آپ جیسی شہزادی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہر فرد آپ کو عام سمجھ کر آپ کے دل کا مکین بن بیٹھے
آپ تو اسلام کی شہزادی ہیں آپ تو ساحل پر موجود سیپ کے اندر چمکتا ہواموتی اور لحاف میں لپٹا ہوا بیش قیمت ہیرا ہیں
جس کا معیار اور جس کی قیمت صرف اس کا رب جانتا ہے آپ نا محرموں کے درمیان گفتگو کا موضوع بننے کی خواہش کرنے والی نہیں بلکہ فرشتوں کے درمیان قابلِ ذکر بننے کی اہل ہیں لہذا اپنے رب کی محبت پر یقین رکھیں اور اپنی حیا کو اپنا شعار بنائیں یہ حیا امت کی بیٹیوں کے پاس حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا خاتونِ جنت بطور امانت رکھوا کر گئ ہیں اس امانت کا حق ادا کرنا آپ کے اور میرے اوپر لازم ہے خود کو پہچانیں اور روند دیں ہر اس فتنے کو جو آپ کے وقار آپ سے چھیننے کی کوشش کرے آپ بہت خاص ہیں اپنے ایمان اور حیا کی حفاظت کریں
کیونکہ حدیث کے مطابق
"ایمان اور حیا ساتھ ساتھ ہیں "
حیا کے بغیر ایمان کا کوئ تصور نہیں ۔۔۔۔۔
ہوشیار باش
اپنے دل کے دروازے پر اللہ کی محبت کا تالا
لگالیجیے جو صرف اس دستک پر کھلے جس کو رب کی اجازت حاصل ہو
"اور وہ دلوں میں پوشیدہ راز تک جانتا ہے "
(القرآن)
اللھم انک عفو تحب العدو فاعفو عنی
آمین یا رب العالمین





































