
نیرنگ خیال /عریشہ اقبال
زندگی میں جب کبھی خود کو اس کشمکش میں مبتلاً پائیں کہ بہت سےسوالات میں الجھ سے جائیں اور بڑھتے قدم یک دم ٹھہر سے جائیں۔
ایک جانب اللہ کا حکم ہے اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ہیں انسانوں کے تلخ رویے ، دنیا کی عارضی رونقیں جن میں سے کچھ بھی ساتھ نہیں جانا تو بلا جھجھک اپنی اولین ترجیح پر اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کو رکھیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں ۔اگر اس فیصلے کے دوران کچھ ایسی صورتحال پیش آجائے کہ وہ کام بظاہر نا ممکن نظر آرہا ہو تو اللہ تعالیٰ کے قرب کی تلاش میں نکل پڑیں ۔۔۔۔وہ بہت مہربان ہے
وہ کچھ نہیں کہتا
مگر یاد سب رکھتا ہے
کونسا لمحہ کس اذیت میں گزرا
کتنے آنسوؤں میں کس حد تک تڑپ شامل تھی
انسان کہیں گے بس کرو ۔۔۔
کونسا غم لگا ہے ؟
کس طرح کا روغ ہے ؟
اور یہ جملے آپ کے دل کو کسی خنجر کی طرح زخمی کررہے ہوں گے
مگر وہیں آپ کی نیت اور رحمت الٰہی کی امید آپ کے اس درد کا درماں کرے گی اور آپ کی روح کو بھی سرشار کرے گی ۔
خود سے سوال کیجیے
آخر کیا نیت تھی میری؟؟
کیا بنیاد تھی اس نیت کی؟
اور میرا عمل کیا تھا؟
ان سوالات کے پرچے کو حل کرتے ہوئے اگر تو جواب یہ ملتا ہے کہ اللہ کی محبت کو حاصل کرنا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ وقت آگیا ہے ۔
جو وقت آزمائش کا ہوتا ہے
آپ کا رب آپ کو خود سے قریب کرنا چاہتا ہے
وہ آپ کو ایک گوہر نایاب بنانا چاہتا ہے
کیونکہ صابرین کے ساتھ ہونے کا وعدہ بھی اس رب رحیم نے کیا ہےجس کی شان رحیمی نہ تو کوئی حد ہے اور نہ ہی کوئی انتہا اس کی رحمت جب جوش میں آتی ہے تو تاریکیاں اجالوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔
رب سے امید کا خیمہ لگائیں اورخوف سے اس کا تانتا باندھیں یقین جانیے کہ وہ خیمہ کسی عالیشان محل سے بھی زیادہ قیمتی اور خوبصورت ہے جس کی بنیاد متاع الغرور (دھوکے کے سامان ) پر نہیں بلکہ متاع آخرت پر رکھی گئ ہے تو وہ کیونکر بیش قیمت نہ ہوگا
وآخرو دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین





































