
عریشہ اقبال
السلام علیکم و رحمتہ اللہ
آمد رمضان کی خاطر آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ رب العالمین کی عطا کردہ رحمتوں کی جانب اپنے آپ کو متوجہ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور اپنی روح کو ذکرخداوندی سے سیراب کرنے کی گھڑیاں آگئیں ہیں ۔ کیا دل کو مسحور کردینے والی کیفیت ہے، ہر جانب نیکیوں کا پلڑا بھاری کرنے اوررضائے رب حاصل کرنے کی تگ ودو میں ہر بندہ مومن مصروف عمل ہے یہاں مؤذن حیا الفلاح کی صدا لگاتا ہےاور وہاں قدم اس اجر عظیم کے حصول کے لیے اپنے وجود کےاندر اللّٰہ کی محبت کو حاصل کرنے کی جستجو کا احساس سموئے رب کے حضورمغفرت طلب کرنے کے لیے قلب و روح سے اس ایمان کی تجدید کو اپنے قدم تیز کردیتا ہے۔
میں سوچتی ہوں اللّٰہ تعالیٰ کی محبت تو واقعی بے مثال ہےکہ اس کے باریک بین اورباخبرہونےکے باوجود وہ اپنے بندے کو بخشنے کے لیے ایک نہیں کئی مواقع اپنی بے ایاں رحمت اور شان رحیمی کے مطابق فراہم کرتا رہتاہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ بھی تو گویا اس رب رحیم کی فضیلتوں کی برسات ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے اور آپ کو عنایت کردی۔ رب کی عنایتوں اور اس کی نعمتوں کا شمار کرنا بھی چاہیں تو یہ ممکن نہ ہوگا ۔ زندگی کا ہر گزرتا لمحہ اس حقیقت کا گواہ ہےکہ ہم سب نے ایک روز اپنے رب سے رو برو ملنا ہے اور وہ جو یاراۓ نظر کی خواہش میں اور آپ اپنے اندر رکھتے ہیں اسی کے لیے نفس مطمئنہ کی طرف جانے کا راستہ اللّٰہ تعالیٰ نے بتایا ہے تاکہ جب ہمیں اس پیارے اور بے انتہا محبت رکھنے والے رب کا دیدار ہو تو ہم اس کے حضور ایک مجرم اور حق شکر ادا نہ کرنے والوں کی حیثیت سے پیش نہ ہوں اس وقت ایک غور طلب نقطہ میری اور آپ کی توجہ کا منتظر ہے وہ نقطہ بہر حال اپنے اندر ایک مقناطیسی کشش رکھتا ہے اور وہ کشش اسی فرد کو محسوس ہوگی جو اس کے احساس کو اپنے وجود میں رکھنے کا خواہاں ہوگا رمضان اللہ کا مہمان ہے جو مجھ سے اور آپ سے بہترین میزبانی کا مطالبہ کرتا ہے
یہ مطالبہ میری اور آپ کی زندگی کے ہر گزرتے لمحے سے وابستہ ہےکہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ اس مہینے کی برکتوں اور رحمتوں کے موتیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ رہا ہے یا نہیں حقوق اللہ کی جانب ضرور اپنے قدم بڑھائیے مگر اپنے اہل و عیال دیگر احباب ، تعلقات اور خصوصاً اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے معاملے میں ہر گز کوتاہی نہ برتیے گا ایسا نہ کو کہ افطار پر ہم تلاش رب کے فضل کی کررہے ہوں اور دعاؤں میں اس کا رحم مانگ رہے ہوں مگر دستر خوان پر موجود ان معصوم بچوں کے خون سے رنگی ہوئی اشیاء روز قیامت میرے اور آپ کے خلاف گواہی دے رہی ہوں اور عافیہ صدیقی کی ہمارے حق میں کی گئی دعاؤں کے حق میں ہمارا شمار اللّٰہ کے سامنے ایک احسان فراموش اور بے حس کی طرح ہو اللھم احفظنا منھم آمین یا رب العالمین لہذا اپنی دعاؤں میں ان کے لیے مخصوص حصہ ضرور سمبھال کر رکھیں تاکہ آپ کی اور میری دنیا و آخرت میں حقوق العباد کی بابت کڑا حساب نہ ہو
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے والوں میں شامل فرمائیں اور اس مہمان کی بہترین میزبانی کرنا نصیب فرمائیں آمین یا رب العالمین
اس پیغام اور یاد دہانی کے ساتھ امت مسلمہ کو
رمضان کی آمد مبارک ہو
دعاؤں کی طلبگارعر





































