
نیرنگِ خیال / عریشہ اقبال
اس چڑیا سے کبھی پوچھا نہیں گیا کہ اس پانی کے قطرے سے کیا ہوگا. امت مسلمہ کے لیے دھڑکنے والے یہ دل بے ضمیر حکمرانوں کے دلوں پر چڑھے قفل کوہٹانے اور ان
کی روح کو جھنجھوڑنے کے لیے یہ اظہار یک جہتی کسی کی نظر میں ہو نہ ہو مگراللہ کی نظر میں بہر حال ہر شے ہے کیونکہ وہ تو بدیع السماوات والارض ہے وہ تو علیم وخبیر ہے، زمین میں ایک دانے کے پھوٹنے سے لےکر سمندر کی لہروں تک اورآسمان و زمین میں موجود ہرراز سے واقف وہ ذات کیسے ان امت کے لئے دھڑکتے دلوں کو فراموش کرسکتی ہے ۔
وہ رب جو نقطہ نوازہے وہ رب جس کےکلام میں اس کے غضب سے زیادہ اس کی رحمت کا ذکر ہے، اس ذات کی یہ شان کہاں کہ وہ شرف قبولیت نہ بخشے ۔اتوارکی رات رمضان المبارک کی ان بابرکت ساعتوں میں سے کچھ وقت اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں بہنوں ماؤں اور بچوں سے اظہار یک جہتی کے لیے جماعت اسلامی کراچی نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے شب یک جہتی غزہ فلسطین کا اہتمام کیا جس میں لوگوں کو بلا کسی تفریق کے دعوت عام دینے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایمان کی طاقت واقعی اپنے اندر جامعیت رکھتی ہے کہ وہ باطل اور طاغوت کی آتی تیزہواؤں کا رخ بھی موڑنے کی بھر پور قوت رکھتی ہے کیونکہ ایمان کا سب سے اہم حصہ اپنے مقصد کے اوپر نگاہ مرکوز رکھنے کے ساتھ اس کے لیے جدو جہد کرنا اور اس جدو جہد کے راستے میں اللہ تعالیٰ پر توکل اوراس ذات سے رحم کی امید بوجھل قدموں کو مضبوط کرنے میں بہترین کردارادا کرتی ہے ،جویقیناً بہترین زاد راہ ہے
اس بات کی شہادت قرآن دیتا ہے کہ "بہترین زاد راہ تقوی ہے "( القرآن)
جولوگ کہتے ہیں کہ ان جلسوں ، مارچ اور بائیکاٹ سے کچھ نہیں ہوسکتا تو انہیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کوششوں کو دیکھنے والے ہیں اوروہ بہترین قدردان ہیں،جہاں جس حد تک جس فرد کے لیےجہاد میں حصہ لینا ممکن ہوگا،وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس خیر کو سمیٹے گا اور جس فرد کا معاملہ حیلے بہانوں پر مشتمل ہوگا وہ تو پھر اپنے مردہ ہوئے ضمیر اورغیرت ایمانی پر افسوس ہی کرسکتا ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ان تمام کاوشوں کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول و منظور فرمائیں اور فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں کے حق میں ہماری جانب سے گواہی کے طور پر ثبت کرلیں آمین یا رب العالمین
وآخرو دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین





































