
روزینہ خورشید
کچھ لوگ بہت زیادہ برانڈ کے حوالےسےحساس ہوتے ہیں جیسے کہ میری بھتیجی سمرا جوہر وقت برانڈڈچیزوں اور ان کی کمپنیوں کے ناموں کا
راگ الاپتی رہتی ہے۔ کل ہمارے گھر ملنے آئی تو کہنے لگی" میں تو جب تک" فلاں فلاں "برانڈ کے پیزا ، برگر اور فرائیڈ چکن نہ کھا لوں تسلی نہیں ہوتی اور "فلاں" برانڈ کی کولڈ ڈرنک جب تک نہ پی لوں، مزہ ہی نہیں آتا ۔ساتھ ہی میرا چھوٹا بیٹا بیٹھا تھا کہنے لگا ،آپی آپ کو معلوم ہے ہماری پاکستانی کولڈ ڈرنک "فلاں" برانڈ کے کولڈڈرنک سے بہتر ہے ۔
میں تو کسی بھی ریسٹورنٹ میں جاؤں اسی کی ڈیمانڈ کرتا ہوں اور اگر ریسٹورنٹ والےدینے سے انکار کریں تو سادہ پانی منگوا لیتا ہوں ۔وہ حیرت سے کہنے لگی ،اچھا۔۔۔۔۔۔ پاکستانی کولڈ ڈرنک۔۔۔۔ جی بالکل آپی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی پاکستانی مصنوعات کو پروموٹ کرنے کے لیے میدان عمل میں اتریں کیونکہ اس میں دونوں جہانوں کا فائدہ ہے۔ ایک تو ہماری معیشت مستحکم ہوگی اور ہم من حیثیت القوم دھیرے دھیرے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے تا کہ کشکول سے ہماری جان چھوٹے۔
دوسرے غیر ملکی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ہم ان طاقتوں کو کمزور کریں گے جومسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑرہےہیں، خواہ فلسطین میں ہوں یا کشمیر میں ۔۔۔۔اس کا اجر ہمیں اس جہان میں نہ سہی اگلے جہان میں ضرور ملے گا۔۔۔ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو مگر دکاندار تو ہمیں پاکستانی مصنوعات دیتے ہی نہیں صاف منع کر دیتے ہیں۔ وہ قائل ہوتے ہوتےہوے بولی۔ ۔۔۔۔پھر ہمیں بھی ڈھیٹ بن جانا چاہیے اور صرف پاکستانی مصنوعات کا ہی مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ وہ منگوا کر رکھیں۔
میں نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا ابھی جنوری کے مہینے میں پاکستان بزنس فورم کی جانب سےایکسپوپرجو نمائش لگی تھی اس میں لوگوں کا جم غفیر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ سب پاکستانی مصنوعات خرید کر اپنی معیشت کا پہیہ خود چلانا چاہتے ہیں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ اس سلسلے میں مختلف علاقوں کے کھلے میدانوں میں جس طرح بچت بازار لگائے جاتے ہیں، اسی طرح کوئی ایسا طریقہ کار بھی اپنایا جا سکتا ہےجس سے ملکی مصنوعات کو عوام میں فروغ دینے اور ان کی دسترس میں لانے کے لیے مدد ملے تا کہ ہر شہری اپنی پاکستانی مصنوعات کے بارے میں آگاہ ہو سکے ۔
سمرا نے کہا جی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آگاہی بہت ضروری ہے،ویسے آپ لوگوں نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔یہ ہوئی نا بات چلو اب کافی پی لو ، پاکستانی برانڈ ہے کیونکہ ہم تو کافی عرصے سے گروسری ،کنفیکشری اور دیگر مصنوعات میڈ ان پاکستان دیکھ کر ہی خریدتے ہیں۔
کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے کہنے لگی
"پھو پھی جان اب میں بھی ان شاءاللہ صرف پاکستانی ریسٹورنٹ جاؤں گی اورپاکستانی ہی کولڈ ڈرنک کا مطالبہ کروں گی تا کہ دونوں جہانوں کا فائدہ سمیٹنے کی کوشش کروں۔۔۔۔اور ماما کو بھی قائل کروں گی کہ رمضان اور عید کی خریداری میں وہ پاکستانی مصنوعات کو ہی مقدم رکھیں۔





































