
مقابلہ افسانہ نگاری( اول پوزیشن )
ہماعدیل
اکتوبر کےخزاں کی خنک ہوا لئے ہوئے ایک ڈھلتی شام۔ زیتون کےدرخت سے چھن کرآتی ہوئی عصرکےڈوبتےسورج کی روشنی سماع کے چھوٹے سے
سفید رنگ کے گھر کو کسی سنہرے سیپ کی طرح چمکا رہی تھی۔ دروازہ کھولتےہی رضا کی عودپرچھڑی ہوئی مدھم موسیقی سماع کے کانوں سے ٹکراتی ہے۔ یہ تو ترکش دھن حسرت ہے، سماع فوراً ہی پہچان جاتی ہے۔کچن سے آتی مزیدار خوشبو سماع کا استقبال کرتی ہے۔۔۔۔۔نبولوسی پنیر کی باریک تہوں کے ساتھ مکھن، سوجی ،سویاں اور پستے۔۔۔۔۔ آمنہ جب اوون سے نکلے گرم کنافہ پر سنہرے عرق گلاب میں بنا شیرا انڈیلتی ہے تو جیسے پورا گھر خوشیوں کی خوشبو سے مہک جاتا ہے۔ سماع اپنا بستہ صوفے پر ہی پھینک کر کچن کی طرف دوڑتی ہے کہ اپنی ماں آمنہ سے ٹکرا جاتی ہے۔ "آ گءتم،سماع! جاو¿ جا کر خالد اور اپنے بابا کو بلا لاؤؑ گرم گرم قہوہ اورکنافہ تیار ہے۔"
خالد! خالد! سماع ہر طرف خالد کو اپکارتی ہے۔
خیمے کی گرمی اور بڑھتے دن کی تیز روشنی سے سماع کی آنکھ کھلتی ہےتو سب سے پہلےخیمے میں خالد کو تلاش کرتی ہے مگر خیمہ تو خالی ہے۔ سماع اپنی بیساکھیوں کو پکڑ کر کھڑی ہوتی ہے اور خیمے سے باہر نکل جاتی ہے۔ خالد! خالد! اپنے گلے پر پورا زور دیتے ہوئے وہ اپنے چھوٹے بھائی کو ڈھونڈتے ہوئے کیمپ سے زرا باہر بنے قبرستان کی طرف بڑھتی ہے۔اسے پتا ہے کہ اگر خالد باہر بچوں کے ساتھ نہیں کھیل رہا تو وہ کہاں ہوگا۔ "خالد! تم پھر بغیر ناشتہ کیے ہوئے ماما کے پاس آ گئے ہو". یہ کہتے ہوئے وہ اپنی ماں کی قبر سے لپٹے ہوئے آٹھ سالہ سنہرے گھنگریالے بالوں والے خالد کے پاس بیٹھ جاتی ہے۔
"سماع ! مجھے ماما بہت یادآرہی تھیں۔ میں نے رات اپنےخواب میں ماما اوربابا کی خون میں لٹکی لاش یں دیکھی اور پھر جیسے بہت ساری مٹی انکے اوپر گر گئی۔۔۔میں انکے اوپر سے مٹی ہٹانے آیا تھا تاکہ ماما کو پیار کرسکوں"سسکیاں لیتا ہوا خالد اپنی دس سالہ بہن سماع سے مخاطب ہوکر کہتا ہے۔۔ سماع خالد کےسورج کی تمازت سے لال ہوتے نرم گالوں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کرتی ہے اور اسے گلے سے لگا لیتی ہے۔
"سماع! ماما کہتی تھی کہ میں بڑے ہوکر ڈاکٹر بنوں گا۔ مگر میں کیسے ڈاکٹر بنوں گا ،ہمارا اسکول اور تمام استاد ،ہمارے سنہرے گھر کی طرح بمباری سے تباہ ہوگئے ہیں۔" انکل کہہ رہے تھے کہ اگر بارڈر کھل گیا تو ہم مصر چلے جائیں گے۔ تم وہاں اسکول میں پڑھو گےاور ڈاکٹر بنو گے اور ماما بابا بہت خوش ہونگے۔"سماع جواب دیتی ہے۔
"سماع تم بھی پریشان نہ ہونا میں مصرجاکرتمہارے بالوں کاعلاج بھی کراؤں گا"خالد سماع کے گنجےہوتے ہوئےسرپرہاتھ پھیرتےہوئےکہتا ہےجس کو سماع نے اسکارف سے ڈھکا ہوا تھا۔ نیلی آنکھوں والی سماع جس کے ابھی دو مہینے پہلے تک کمر تک آتے خوبصورت بھورے مخملی بال تھے۔ جنگ کے دوران مہلک ہتھیاروں کے استعمال اورغزہ کے پناہگزین کیمپوں میں موجود نامناسب حالات اور کھارے پانی کے استعمال کی وجہ سے کسی جلدی بیماری سے متاثر ہو کر گر نا شروع ہوگئےاوراب سماع کے سر کا آدھا حصہ بالوں سے خالی تھا۔ وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے اپنے سر کو اسکارف سے چھپائے رکھتی تھی۔ اس دس سالہ ننھی پری کےدل پر ہر روز جو گزرتی تھی اسکا اندازہ کوئی دوسرا کیا جانے۔۔۔
"زینب خالہ کہہ رہی تھیں کہ جب یہ جنگ ختم ہو جائے گی تو وہ ڈاکٹر کے پاس جاکر میری ٹانگ بھی ٹھیک کروادیں گی۔شاید ڈاکٹر میری نئی ٹانگ لگا دیں "، سماع اپنا اسکارف ٹھیک کرتے ہوئے کہتی ہے۔
"مگر تم پھر بھی فٹبال تو کبھی نہیں کھیل سکوگی جس کاتمہیں بہت شوق تھا۔"
"کوئی بات نہیں بس میں چاہتی ہوں کہ میں ان بیساکھیوں کےبغیرچل سکوں، کوئی بات نہیں اگرمیں فٹبال نہیں کھیل سکی توکیاہوامیں بہت اچھی تصویریں بناو¿ں گی اور بابا کی طرح عود بجانا سیکھوں گی۔"سماع اپنی ماں کی قبر کی مٹی پر اپنی انگلیوں سے اپنا نام لکھتے ہوئے جواب دیتی ہے۔
مسلسل فضا میں گھومتے ڈرونز کی کانوں میں چبھتی ہوئی آوازیں سےتنگ آکر خالد اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونستے ہوئے سماع سےکہتا ہے،"افففف! سماع ان آوازوں سے میرا سر پھٹتا ہے۔۔۔سماع ہمیں کتنے مہینے ہوگئےہیں پیٹ بھر کر کھانا کھائے ہوئے۔جب جنگ ختم ہو جائے گی تومیں خوب پیٹ بھر کر مغلوبہ کھاو¿ں گا جس میں ساری چکن اپنی پلیٹ میں نکال لوں گا۔۔اور پھر اسکے بعد کنافہ۔۔۔۔"
"یاد ہے خالد اس دن ماما نے کنافہ بنایا تھا اور میں تمھیں اور بابا کو بلا نےآرہی تھی کہ اچانک سب کچھ ختم ہوگیا۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کیا ہوا۔ اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔۔۔اس کنافہ کی خوشبو میں آج تک اپنی ناک میں محسوس کرتی ہوں۔ میں نے خود ماما کو تازہ تازہ کنافہ پر سنہرا شیرا ڈالتے ہوئے دیکھا تھا۔ لذیذ ترین۔۔۔۔"سماع اپنی ماں کی قبرپرہاتھ پھیرتے ہوئے بولتی ہے۔
"پتا نہیں اب ہم کب مغلوبہ اور کنافہ کھائیں گےاپنی زندگی میں" خالد آسمان کی طرف منہ کرکےکہتا ہے۔۔
اتنی دیر میں ہانپتی کانپتی ہوئی خالہ زینب کیمپوں کی طرف سے آتی ہیں اور پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ سماع اور خالد کو مصنوعی ڈانٹ لگاتی ہوئے کہتی ہیں ، "میں تم دونوں کو سارے کیمپ میں ڈھونڈ رہی ہوں اور تم دونوں یہاں بیٹھے ہو۔جلدی چلو ترک رفاہی ادارے کی طرف سے آج کیمپ میں بچوں کے لیے خاص کھانے کا انتظام ہے۔تم دونوں نےتوناشتہ بھی نہیں کیا۔۔۔"
"خالہ کیا آپ کو پتا ہے کہ وہ لوگ کھانے میں کیا دے رہےہیں"خالد بیچینی سےپوچھتا ہے۔
"چکن مغلوبہ اور کنافہ!چلو جلدی چلو اب!
سماع اور خالد آنکھوں میں موجود چمک اورآنسوؤں کےساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ "خالد بیشک دشمن نےہمارا گھر،ہمارے ماں باپ اور ہماری اچھی زندگی ہم سے چھینی ہے ، مگر وہ ہم سے ہمارا اللہ اور ہمارے خواب نہیں چھین سکتا۔ ماما اور بابا یہاں آرام سے سو رہے ہیں چلو ہم ناشتہ کرتے ہیں ". دونوں بچے اپنے ماں باپ کی اجتماعی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں اور واپس کیمپ کی طرف چل پڑتے ہیں۔





































