
ہماعدیل
کھڑکی سے آتی چڑھتے سورج کی دھوپ میں منی پلانٹ کےپتوں کے بدلتے ہوئےسائےدیکھ کر مزنہ زرا ٹھہر سی جاتی ہے ۔ہوا سے ہلتے پتوں کے سائے
ایسے معلوم ہورہے تھے جیسےسنو وائٹ کے سات بونے کسی پگڈنڈی پر اپنی مستی میں مگن چل رہے ہوں۔۔۔بس یہ دیکھ کر مزنہ اپنی اسکیچ بک اٹھاتی ہے اور سنو وائٹ کے بونوں کا خیالی خاکہ بنا ڈالتی ہے ۔
مزنہ اپنی زندگی کے ایک بڑے پروجیکٹ پر کام کررہی تھی "گرینڈ ڈیوکل لکسمبرگ شاہی خاندان" نے کرسمس کے حوالے سے مزنہ کے ڈیزائنز کو پسند کیا تھا۔ ایک سخت اور مشکل بچپن گزارنے کے باوجود مزنہ کی تخلیقی صلاحیتیں بہت خوب تھیں یا یہ کہیے کہ شاید خاندان اور گھر کے مشکل حالات سے فرار کی ایک راہ تھی۔ مزنہ کو آج جلدی گھر پہنچنا تھا ۔ وہ پرجوش بھی تھی اور پریشان بھی۔اپنے ملٹی نیشنل کمپنی کے آفس کے سفید کوریڈور سے تیز رفتاری سے گزرتے ہوئے اس کا سامنا اپنی منیجر سے ہوتا ہے ،"مزنہ آج جلدی جا رہی ہو"
"جی میم آج کچھ ایمرجنسی ہے اس لیے مگر آپ فکر نہ کریں رئیل فیملی آف لیگزینبرگ والے پروجیکٹ کے لئے میرے پاس بہت سارے ائڈیاز ہیں ، میں انشاللہ وقت پر سب کر لوں گی۔"
"ہاں مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے۔ مزنہ علی! دی سینئر ٹیکسٹائل ڈیزائنر آف آور کمپنی" منیجر مزنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہیں ۔ مزنہ مسکرا کر دیکھتی ہے اور سر ہلا کر آگے بڑھ جاتی ہے ۔وہ کافی دیر تک اپنی منیجر کے بولے ہوئے الفاظ اپنے کانوں میں گونجتے محسوس کرتی ہے ۔اسے اپنے دل میں ایک بھاری بوجھ سا محسوس ہوتا ہے ۔
گھر کے مرکزی حصے میں موجود کھانے کی میز پر خوبصورت رنگوں کی میز پوش بچھائے جاتے ہیں جو خود مزنہ ہی نے ڈیزائن کیے تھے ۔اس پر سجے پھول اور سلیقے سے رکھے برتن ، خوبصورت جلتی موم بتیاں ، فیری لائٹس ، گھر میں پکے لذیذ کھانے ، بیک ہوئے ریڈ ولوٹ کیک اور پھولوں کی خوشبوئیں سب آپس میں مل کر ایک حسین امتزاج پیدا کر رہی تھیں ۔ یہ سارا اہتمام علی کی سالگرہ کا تھا اور ساتھ وہ زندگی میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کے بارے میں بھی بات کرنا چاہتی تھی ۔ اپنے وقت پر گھر کا دروازہ کھلتا ہے اور علی اندر داخل ہوتا ہے ۔ پہلے تو زرا ٹھٹھکتاہے مگر پھر مسکرا کر آگے بڑھتا ہے ۔۔جیسے جیسے باہر رات کا اندھیرا بڑھتا جارہا تھا ویسے ویسے گھر کے اندر جلتی فیری لائٹس اور موم بتیوں کی روشنی روشن تر ہوتی جا رہی تھی ۔ " علی میں اپنی زندگی میں کامیابی اور خودمختاری چاہتی ہوں"۔
"ہاں مجھے یہ بات پتا ہے"علی اپنی پلیٹ میں بچےکیک کا آخری ٹکڑا کھاتے ہوئے بولتا ہے ۔
"اپنی زندگی کی اس تبدیلی کو اپناتے ہوئے مجھے کئی خدشات ہیں۔ میں نےاپنی ماں کو جس طرح ساری زندگی دوسروں کامحتاج ہوتے اوران کےاحسانات تلے دبتے دیکھا ہے ۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر عورت کو مضبوط ، باہمت اور کیرئیر اورینٹڈ ہونا چاہیے تا کہ وہ کبھی بھی کسی مرد کی محتاج نہ ہو اور اگر میں نے ماں بننے اور بچے کی پرورش اور تربیت کا راستہ چنا تو میرا کیرئیر بری طرح متاثر ہوگا۔"
"مزنہ یہ ضروری تو نہیں کہ دنیا کا ہر مرد تمہارے باپ کی طرح ہوجواپنے بیوی بچوں کو بےاسرا چھوڑکر اپنی عیاشیوں میں مگن ہو جائے ۔ میں نے تم سے شادی کی ہے تو پوری ذمہ داری کے ساتھ ۔ ہم دونوں مل کر ضرور کوئی راستہ نکال لیں گے " یہ کہہ کر علی تو بات ختم کر دیتا ہے مگر مزنہ یوں ہی خدشات کے بھنور میں پھنسی رہتی ہے ۔ اگلے کئی دن وہ اسی الجھن میں گزارتی ہے کہ اگر وہ بچے کی ذمیداری لے گی تو اسے اپنی اتنی اچھی تنخواہ سے ہاتھ دھونا پڑے گا کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ بچے کے ساتھ وہ آفس نہیں جاسکے گی ۔ کام کا دباؤ نہیں برداشت کر سکے گی اور اگر وہ اتنے عرصے کا وقفہ لے گی تو اس کا بہت برا اثر اسکے کیرئیر پر پڑے گا اور اس زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی ۔ وہ جو ایک آزاد ، خود مختار زندگی اور آگے بڑھنے کا خواب دیکھتی تھی، وہ ٹوٹ جائے گا مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور خواب بھی بن رہا تھا مزنہ کے لاشعور میں ۔ ممتا اس کے کانوں میں سرگوشیاں کر رہی تھی ۔وہ اپنے اندر کسی چھوٹے سے دل کی دھڑکنیں محسوس کر رہی تھی ۔ کشمکش اور جذبات کی شدت سے کبھی اس کی آنکھوں سے آنسؤوں کے موتی نکلتے اور کبھی وہ کسی جذبے کے ساتھ فیصلہ کرنے کے قریب پہنچتی ، پھر اپنے آپ کو بےبس محسوس کرتی اور بس اللہ سے مدد مانگتی ۔
گھڑی کی سوئیاں اپنی رفتار پر چلتی رہیں۔۔۔۔دریا کے بہتےپانی کی طرح وقت رواں رہا۔۔۔مزنہ آخرکار اپنا فیصلہ کرچکی تھی۔ شاہ بلوط کی لکڑی سے بنی اسٹیڈی ٹیبل پر رکھے لیپ ٹاپ پر وہ اطمینان کے ساتھ اپنے آفس ای میل بھیجتی ہے اور اطمینان سے اپنی کافی ختم کرتی ہے ۔
کبھی کبھار ہمارے راستے میں کچھ رکاوٹیں ، کچھ الجھنیں آتی ہیں اوران سب سےگزر کر ہی انسان کندن کی طرح نکھرتا ہے ۔مہینوں بعد اپنی نوزائیدہ بیٹی کی نرم و ملائم ننھی انگلیوں کی گرمی کو محسوس کرتے ہوئے مزنہ مسکراتی ہے ۔ اس نے ایک عنوان چھوڑ دیا تھا لیکن اس سے کہیں زیادہ کچھ حاصل کیا۔ ایک مقدس رتبہ ، ایک نیا مقصد ، ایک نئی شروعات ۔





































