
ہما عدیل
میں جب کوئی بھی سادہ سی بیکڈ چیز بناتی ہوں چاہےوہ کوکیز ہوں یابراؤنیز کیک ہوں یا ڈبل روٹی تویہ آٹےمیں محض سادہ سی چیزیں چینی، انڈے
چاکلیٹ نہیں ہوتیں بلکہ اس میں میرا حوصلہ ، دعا و خواب ہوتے ہیں اور پھر ایک خوبصورت لذیز ڈش تیار ہوتی ہے۔۔۔ بلکل ایسے جیسے پاکستان ائیر فورس نے کیا۔
چھوٹا سا ملک،محدود وسائل کےساتھ جس کےپاس نہ یورپ کی اربوں ڈالرکی ٹیکنالوجی ہے،نہ اسرائیل جیسی ہائی ٹیک ڈیفنس سسٹمزاورنہ ہی وہ معاشی طاقت جو بڑے ممالک کے پاس ہوتی ہے لیکن ہمارے پاس کچھ تھا جو ان سب پر بھاری تھا ، ایمان، قربانی، اور جذبۂ شہادت۔ایف 17تھنڈر جیسے فائٹر جہاز یقیناً چائنیز ٹیکنالوجی سے بنے مگر ان کو چلانے والے پائلٹس جن کےہاتھوں میں جہاز کا کنٹرول تھا ،اپنے دلوں میں جذبہ شہادت رکھتے تھے ،وہ قوم کے اصل ہیرو ہیں۔ ان کی پرواز صرف فضا میں نہیں بلکہ ہماری امیدوں،خوابوں اور دعاؤں کے ساتھ تھی۔ ان کی بہادری نے پوری دنیا کو یہ بتا دیا کہ پاکستان چھوٹا ہو سکتا ہےمگرکمزور نہیں۔
ہمارے شاہنوں نے نا صرف دشمن کےحملوں کادفاع کیابلکہ ان کےدل میں گھس کر،ان کی زمین پرجاکر،انہیں وہ جھٹکا دیاجس کی گونج دہلی سے لے کر واشنگٹن تک سنائی دی۔ یہ صرف ایک کامیاب مشن نہیں تھا، یہ غیرتِ پاکستان کی جیت تھی اور اس جذبے کو اور بھی معنی خیز بناتی ہے ،ایک دل کو چھو لینے والی حقیقت کہ اس مشن میں حصہ لینے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک غیر مسلم پائلٹ کامران مسیح بھی شامل تھے۔یہ صرف جنگ نہیں تھی یہ پاکستان کے ہر رنگ، ہر عقیدے اورہر دل کی لڑائی تھی پاکستان کےتحفظ کے لیے ۔





































