
ہما عدیل
اس نے فون اٹھایا،ایک لمحے کو دیکھا اورپھرجیسے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلتی ہیں بلکل ویسے ہی خودکار انداز میں ایک مختصرسا میسج ٹائپ کیا ،" جب
آپ فری ہوں تومجھے کال کر لیجئےگا۔"بظاہریہ ایک سادہ سا پیغام تھا لیکن جیسے اس کےدل کی دھڑکنیں جڑی ہوں ،اس پیغام سے۔
اس نے صبح سےاپنےآپ کو فائلوں،ملاقاتوں اورگھڑی کی چلتی سوئیوں میں خودکوتحلیل کردیا تھا۔ دوپہر کےبارہ بج رہےتھے،اس نےاپنی گھڑی کی طرف دیکھا ۔ ظہر کی نماز میں تو ابھی کافی وقت تھا مگر اس نے جلدی نکلنے کا فیصلہ کیا۔سورج پوری شدت کے ساتھ کراچی کی سڑکوں کو پگھلا رہا تھا ، آگ برسا رہا تھا ۔اس نے اپنی بائیک کا رخ سڑک کے آخر میں موجود ایک پارک کےکونے پر کھڑے بلند ، گھنے ،سایہ دار پرانے برگد کے درخت کی طرف کر دیا کیونکہ اسےاس جھلسا دینے والی گرمی میں ایک پُرسکون سایہ چاہیےتھا۔ایک پرانا درخت جو وہاں جانے کب سے کھڑا تھا، جیسے شاید وہ بھی کسی کا انتظار کررہا تھا ۔دھوپ کی کرنیں اس کے پسینے سے گیلے ماتھے کے ایک طرف پڑ رہی تھیں اور دوسرے حصے پر درخت کی شاخوں کی چھاؤں تھی۔اس نے آرام سےاپنی بائیک کو بھی درخت کی چھاؤں میں ایک طرف کھڑاکردیا تھا جیسے وہ ناصرف اس کی ہمسفر ہو بلکہ سفر کی رازداں بھی ہو۔
فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر وہی نام تھا جسے دیکھ کر اس کے چہرے پر دن کی پہلی خالص مسکراہٹ آئی ۔ جیسےوہ اسکرین پر صرف کسی نام کے نوٹیفکیشن کی روشنی نا ہو بلکہ جیسے کوئی گمشدہ ستارہ دوبارہ نظر آ گیا ہو ۔ وہ فون کان سے لگاتا ہے ۔ "ہیلو"دوسری طرف سے آواز آتی ہے ،نرمی، محبت اور ایک ان دیکھی اپنائیت لیے ہوئے ۔ ہوا ایک دم ٹھنڈی ہوتی محسوس ہوتی ہے ۔ہلکی چلتی ہوا سے پتوں کی دھن جیسی سرسراہٹ اور دور کہیں آسماں پر اڑتا چمکتا سفید پرندہ، سب کچھ مل کر ایک لمحے کو عمر بھر کے سکون میں بدل رہے تھے۔
دونوں باتیں کرنےلگےجیس وقت تھم گیا ہو۔آس پاس کا شورجیسےخاموش ہوگیا ہواورصرف اپنائیت کےشیرے میں ڈوبی دوآوازیں ہوں۔"بہت بہت مبارک ہو" وہ کہتا ہے " آپ کی کامیابی میرے لئے بہت اہم ہے" ۔ "بہت زیادہ شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔آپ کو پتا ہے نا کہ آپ کی آواز میرے لئے سکون ہے۔ دوسری طرف سے وہی مدھم اور نرم جواب آتا ہے ۔ایک لمحے کو جیسے ہوا تھم جاتی ہے، جیسے شاید درخت نے بھی انکی بات سنی ہو۔جیسے فون کےدوسری طرف استنبول کی ٹھنڈی فضا کراچی کی لو سے گلے مل رہی ہو۔ جیسے مرمرا کےساحل پر کوئی سیگل کراچی کی یاد میں اڑ رہا ہو۔ وہ آہستہ سےکہتی ہے، "کاش وقت تھم سکتا" یہیں تھما ہے ، میرے لئے ، تمہاری آواز میں، تمہارے نام میں،اس درخت کی چھاؤں میں،اس لمحے میں۔۔وہ جواب دیتا ہے۔اور پھر ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہنے کا نا چاہا لمحہ بھی آتا ہے ۔ ۔۔فون کٹ جاتا ہے ، لیکن آوازیں باقی رہ جاتی ہیں۔۔۔۔جیسے پیانو کی خوبصورت دھن کے آخری نوٹ کی گونج فضا میں برقرار رہ جاتی ہے ۔ فون خاموش ہے مگر یہ خاموشی نہیں دل کی گفتگو ہے ۔ "فون کٹ گیا ہے مگر تم اب بھی ہو" یہ کہہ کر وہ موبائل جینز کی جیب میں رکھتا ہے اور بائیک اسٹارٹ کرتا ہےلیکن جاتے جاتے درخت کو ایک نظر دیکھتا ہےجیسےشکرگزارہواس سائے کا جس نے ایک لمحے کے لئے ہی سہی اسے پھر سے مکمل کردیا۔





































