
ہما عدیل
"امی امی !
"جلدی سے میرے بالوں کی فرنچ چوٹی بنا دیں"، دعا نے اپنی امی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو دعا کے لیے ناشتہ بنا رہی تھیں۔امی نے آکرکافی کا مگ
اور ابلے انڈے دعا کو دیے اور تیزی سے اس کے بال بنانا شروع کر دیے ۔
"دعا جب تمہیں پتا ہے کہ تمہاری چوٹی بنانے میں وقت لگتا ہے تو جلدی تیار ہوکر آیا کرو اپنے کمرے سے"۔
دعا کےلمبے گھنے بال اس کی پوری شخصیت کا خاص حصہ تھے کیونکہ اس کے کالے سیاہ بال انتہائی لمبے تھے اور گھٹنوں تک آتے تھے ایسا ناممکن تھا کہ کوئی دعا سے ملے اور اس کی نظر دعا کی خوبصورت کالی روپنزل جیسی لمبی فرنچ چٹیا پر نہ پڑے ۔
دعا نے جلدی سے انڈے کھاکر، اپنی چٹیا کو نیچے کرکے ،بیگ کندھوں پر ڈالا پھر کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑا جوگرز پہنے اور گھر سے نکل گئی۔
دعا کے گھر کا پچھلا دروازہ ایک پتلی گلی کی طرف کھلتا تھا جہاں دونوں طرف گھروں کے ساتھ ساتھ تازہ ہرے رنگ کی انگور کی بیلیں آخر تک چل رہی تھیں ۔دعا بھاگتے ہوئے بس اسٹاپ کی طرف رواں دواں تھی۔
دعا اپنے امی ابو اور تین بہن بھائیوں کے ساتھ جرمنی کے خوبصورت شہرلوبیک میں رہتی تھی۔محمد احمد صاحب اور ان کی بیگم نے معاشی اور ملکی حالات کے پیش نظر 2012 میں جرمنی ہجرت کی تھی،جب دعا صرف دس برس کی تھی ۔اس تمام عرصے میں احمد صاحب اور ان کی بیگم نے اپنی استطاعت کے مطابق ،اس جنت جیسے دارالکفر میں اپنی اسلامی شناخت کی حفاظت کی۔دعا بھی اسی شناخت کے ساتھ اپنے آس پاس کے ماحول میں گھلنے ملنے کی کوشش کرتی۔۔۔۔۔ اپنی ہنس مکھ طبیعت اور زندہ دلی کے باعث وہ اس میں کامیاب بھی رہتی مگر وقت کے ساتھ ساتھ کچھ سوالات اس کے ذہن کے خالی گوشوں میں گونجتے تھے۔۔اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟
کیا وہ صحیح سمت چل رہی ہے ؟اسے ایک خالی پن کا احساس کیوں ہے؟جیسے وہ کچھ کھوجناچاہتی ہے۔۔۔۔۔ کچھ توہےدعا بے چین تھی۔
بس میں بیٹھنے کے بعد جب اس کی سانسیں بحال ہوئیں تو آہستہ آہستہ اس نے اپنی کافی کے گھونٹ پینے شروع کئے ۔اس کے کانوں میں ہیڈ فون لگے تھے اور موبائل کی پلے لسٹ میں لائبلنگز منچ چل رہا تھا ۔بس کی کھڑکی سے صبح کے چڑھتے سورج کی روشنی میں لیوبیک کی خوبصورت اینٹوں سے بنی گوتھک طرزتعمیر کی عمارتیں کسی افسانوی جگہ کا نظارہ پیش کر رہی تھیں۔ دعا باہر کے ان نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی مگر اندر ایک چپقلش دماغ میں گونج رہی تھی ۔آخر کیا تلاش کر رہی تھی وہ؟کس پہچان کی تلاش تھی اسے؟کیا کمی تھی اس کی اپنی شناخت میں؟
کسی فیری ٹیل فلم کی طرح چلتے نظارے اچانک رک گئے۔بس کا دروازہ کھلا،ایک قدرے چھوٹےقد کی، تھوڑی جوان سی دکھتی خاتون بس میں چڑھیں۔
"کیا میں یہاں بیٹھ جاؤ ں؟"، خاتون نے دعا سے پوچھا ۔ دعا نے کانوں سے ہیڈ فون ہٹا کرمسکراہٹ کےساتھ انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔دعا انہیں نظر بھر کر دیکھنا چاہتی تھی ۔کتنی باوقار اور جاذب نظر شخصیت تھی ان کی، جیسے ایک مکمل شخصیت ہو۔مناسب جسامت ،ہلکے شہد کی سی رنگت ،بڑی آنکھیں ، ہونٹوں پر ہلکی گلابی کافی سے رنگ کی لپ اسٹک اور سر پر خوبصورتی اور نفاست سے لیا ہوا حجاب ۔عمر، ان کی ہو گی کوئی اڑتیس یا انتالیس سال ۔ دونوں کا تعارف ہوا ۔وہ ۔نمل تھیں اور کچھ عرصہ پہلے ہی مصر سے جرمنی آ ئی تھیں ۔
دعا ،نمل کی شخصیت سےاس قدر متاثرہوئی کہ سارا دن بار بار اس کا ذہن نمل اور ان کی شخصیت کےگردگھومتا رہا ۔آخرکیا تھا ان کےاندرجو انہیں اتنا باوقار مکمل اور جاذب نظر بنا رہاتھا ۔رات کو اپنے بستر پر لیٹے ہوئے بھی وہ نمل کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کیسے ایک چھوٹی سی ملاقات نے اس کے ذہن پر اتنا اچھا اثر چھوڑا ۔
صبح تیار ہوتے ہوئے آ ئینہ میں دیکھ کر ایک دم دعا کے ذہن میں یہ خیال بجلی کی طرح کوندا،"نمل نے حجاب کیا ہوا تھا"یہی تووہ پہچان ہے۔۔۔یہ ہی تو وہ رنگ ہے۔۔۔ایک مومن عورت کا۔ ۔۔۔۔ با وقار انداز۔۔۔تبھی تو وہ اتنی مکمل اور باوقار لگ رہی تھیں اور یہ ہی تو کمی ہےاس کے اندر۔
بس اگلے کئی دن دعا کے اسی کشمکش ،الجھن میں گزرے ۔کئی سوال تھےدعا کے دماغ میں۔
کیا حجاب ایک مومن عورت کے لئے ضروری ہے ؟کیا یہ صرف عورت کی اپنی پسند نا پسند پر منحصر ہے ؟یا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے؟ اور کہاں لکھا ہے؟اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں تو پھر یہ ذہنی کشمکش کیسی؟اللہ کی بات ماننے میں رکاوٹ کیسی ؟کیا یہ رکاوٹ ہمارا اپنا نفس ہی تو نہیں ۔۔۔حجاب کروں گی تو میری شخصیت کا یہ خوبصورت حصہ جو میرے انوکھے لمبے بال ہیں وہ چھپ جائیں گےجن کی لوگ اتنی پذیرائی کرتے ہیں کیا لوگ میرا مذاق اڑائیں گے؟کیا مجھے جاہل پرانے خیالات کی قدامت پسند انسان سمجھا جائے گا؟۔ کیا لوگ مجھ پر طنز کریں گے؟ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے دھمکیاں دیں۔ کیا جرمنی میں میری جان کو خطرہ ہوگا؟ کیا میرے دوست مجھے چھوڑ دیں گے؟ کیا میں اپنے سماجی حلقے میں تنہا رہ جاؤں گی۔
دعا اپنے گھر میں اور نماز جمعہ کے وقت اپنے علاقے کی مسجد میں اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں کرتی کہ اللہ اسے وہ ہمت دیں کہ وہ اپنا سچا رنگ اپنا سکے۔مسجد میں جب اس کی ملاقات حجابی خواتین سے ہوتی تو اسے ہمت بھی ملتی مگر پھر نجانے کیوں وہ کوئی قدم نہ اٹھا پاتی۔
دعا کو یہ بات سمجھ آرہی تھی کہ اللہ نے انسان کو احسن تقویم بنا یا ہےمگروہ خود ہی اس راستے کو چھوڑ کر اسفل السافلین بننا چاہتا ہے ۔اس کو سمجھ آ رہا تھا کہ حیا ہی انسانیت کی معراج ہے ۔
جمعہ کا دن تھا بیگم احمد کسی سےفون پر باتیں کرتی ہوئی بہت خوش ہو رہی تھی ،فون رکھ کر انہوں نے سب کو بتایا کہ دو دن بعد ان کی چھوٹی بہن پاکستان سے جرمنی آ رہی ہیں ۔
دعا اپنی خالہ سے ملاقات کی منتظر تھی۔جرمنی آنےکےبعد یہ اس کی اپنی خالہ سےپہلی ملاقات تھی ۔
سب لوگ بڑی گرمجوشی سےایک دوسرے سےملے۔گھرپہ بیگم احمد نےبڑے شاندارڈنرکااہتمام کیا ہوا تھا ۔کچھ اورعزیز مرد وخواتین بھی کھانے پر مدعو تھے ۔
سب مرد و زن ہنسی مذاق میں مشغول تھے اور دعا اس سارےوقت میں وہاں موجود خواتین کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔ اسے کسی کی بھی شخصیت مکمل اور باوقار نہیں لگ رہی تھی ،نمل کی طرح ۔خاص طور پر اسے اپنی خالہ پر تو بہت حیرت ہورہی تھی ۔وہ پاکستان سے آ ئی تھیں مگر نہ سر پہ حجاب، نہ لباس میں حیا۔بہت چست بغیر آستین کا لباس پہنا ہوا تھا انہوں نے ۔۔۔۔افسوس ہوا دعا کو۔
سب مہمانوں کے رخصت ہو جانے کے بعد دعا نے بھاری قدموں اوراداس دل کےساتھ کھانے کےبرتن سمیٹے۔احمد صاحب اوربچےسوچکےتھے اور بیگم احمد اپنی بہن کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں۔دعا ان کے اوراپنے لئے چائے بنالائی۔ دونوں بہنیں اپنی باتوں میں مشغول تھیں اور دعا اپنے خیالات میں گم۔۔۔۔آخر اس سے نہ رہا گیا اور اسنے اپنی خالہ کو مخاطب کیا۔
"خالہ جانی میں کئی دنوں سے َایک جستجو میں تھی میں اپنے اصلی رنگ کی پہچان چاہتی تھی۔اپنی شخصیت کا نامکمل جز ڈھونڈنےکی کوشش کررہی تھی ،پھر مجھے پتا چلا کہ میرا اصل رنگ تو اللہ کا رنگ ہے۔یہ تو صبغتہ اللہ ہے اور اس رنگ سے بہتر کونسا رنگ ہوسکتا ہے ۔میں تو جرمن معاشرے میں رہنے کی وجہ سے ہمت نہیں کر پارہی تھی مگر آپ کو دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہورہی ہے ۔آپ تو ایک مسلمان ملک سے آئی ہیں۔ آپ بغیر حجاب کے کیسے ہیں ؟آپ کیسے اللہ کی رضا کو نہ پہچان پائیں ؟۔۔۔پاکستان میں تو کوئی آپ کو گھورتا بھی نہیں ہوگا کوئی ۔دھمکی نہیں دیتا ہوگا ،نہ آپ کو وہاں جان کا خطرہ ہے تو پھر اتنی سادہ سی چیز کیوں نہیں سمجھ پارہیں!! ۔
آپ تو ان لوگوں کے ساتھ رہتی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پہ ایمان رکھتےہیں ۔۔۔۔ تو پھر یہ الجھن کیسی ، یہ رکاوٹ کیسی،یہ جھجک کیسی۔کاش اللہ ہم سب کو وہ ہمت اور طاقت دے کہ ہم ایک بہادر مسلمان کی طرح رہ سکیں اور فخر کے ساتھ اپنا سچا رنگ پہچان سکیں۔
یہ ساری باتیں کہہ کر دعا تو اپنے کمرےمیں چلی گئی اورکسی اورکوہمت ملےیا نہ ملےمگردعا کو ضرورہمت مل گئی اوراپنےسارےسوالات کے جوابات بھی اس نے خود ہی کھوج لیے۔
صبح جب دعا یونیورسٹی جانے کے لئے تیارہوکرکمرے سےنکلی تواسنےسرپرحجاب پہناہواتھا ۔اس کےلمبے بال پوری طرح حجاب کے اندر چھپے ہوئے تھے ۔
کلاس میں سب اس کو غور سے دیکھ رہے تھے ۔ آ خرکار کلاس ختم ہو نےپر اس کے ایک کلاس فیلو نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ
"آج تم مختلف لگ رہی ہو"۔
دعا مسکرائی اور جواب دیا ۔
" ہاں! میں نے اپنے آپ کو سچے رنگوں میں رنگ لیا ہے جو قوس قزح کی طرح بہت خوبصورت ہیں اور ان خوبصورت رنگوں کے ساتھ میں اپنے راستے پر گامزن ہوں ۔۔ احسن تقویم بننے کے لیے ۔"





































