
ہماعدیل
جب پہاڑوں پر بادل یکایک ٹوٹ کر برستے ہیں اور خوبصورت ہنستے بستے گاؤں اجڑتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ یہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ تاریخ کی صدیوں پرانی ناانصافی ہے جو
تیسری دنیا پر برس رہی ہے جو قیامت دیر، بونیر،سوات ودیگرعلاقوں میں برپا ہے،گاؤں مٹ گئے.اسکول بچوں سمیت بہہ گیا۔مویشی وفصل تباہ ہوئے،لوگ بےگھرہوئے،لاپتا ہوئے، کھانے کی قلت اور ہسپتالوں میں زخمیوں کے لئے دواؤں کی عدم دستیابی ۔۔۔ یہ سب صرف عام بارشیں نہیں بلکہ ہماری زمین کا تبدیل ہوتا موسمی پیٹرن ہے۔
یہ گلوبل وارمنگ کا شاخسانہ ہےاگر غور کریں تو گلوبل وارمنگ کی جڑیں انڈسٹریل ریولوشن سےملتی ہیں۔ 1750 کے بعد سےسب سے زیادہ کوئلہ، تیل اور گیس یورپ اور امریکا نے جلایا۔ دو سو سال سے زائد عرصے سے ان ممالک نےفضا میں اربوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ڈالی۔ کولونازیڈ ہوئے ممالک جیسے بھارت و پاکستان ، افریقہ اور لاطینی امریکہ سے خام مال نکالا گیا تاکہ یورپ اور امریکہ کی انڈسٹریاں چلیں لیکن امریکہ یورپ کی پھیلائی گئی اس فضائی آلودگی کاسب سےزیادہ بوجھ ان تیسری دنیا کے ممالک پر ہی پڑا ،جیسے کہ پاکستان کیونکہ زیادہ تر یہ ممالک مون سون اور ٹراپیکل زون میں ہیں ۔غریب ہیں،وسائل کی کمی ہے،معاشی طور پرغیر مستحکم ہیں جہاں نا صرف امریکہ و یورپ نے انڈسٹریلائزیشن سے دنیا کی فضا کو زہر آلود کیا وہاں دنیا کے کمزور ممالک کے سیاسی وسماجی ماحول کو بھی آلودہ کیا۔
اپنے مفادات کے لیے ان ممالک میں سیاسی مداخلت کرکے اپنےمرضی کےکرپٹ حکمران بٹھائے گئے،قرضوں اور ایڈ کے جال میں پھنسایا گیا ۔غیرمستحکم سیاسی حالات اور غیر سنجیدہ کرپٹ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں نا ہی ان ممالک کے معاشی حالات بہتر ہوسکے،ناہی انفرااسٹرکچر۔ان ممالک میں طویل المعیاد اسٹریٹجی کا فقدان رہا ۔ ڈیمز ، مؤثر ڈرینج سسٹم یہاں تک کہ ہم ابھی تک کلاوڈ برسٹ یا اربن فلڈنگ جیسے اچانک واقعات کے لیےمکمل جدید وارننگ سسٹم انسٹال نہیں کرسکے ہیں، یہی وجہ ہےکہ بنیر،اپردیر،سوات یا کراچی جیسے شہروں میں اچانک بارش اور فلڈ کی وارننگ اکثر دیر سے ملتی ہے اور جدید انفرااسٹرکچر کی غیر موجودگی میں نا قابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
دنیا کا موسم تو تیزی کےساتھ تبدیل ہورہا ہے مگر سوال یہ ہےکہ ہم کب بدلیں گے۔ہمارے ساتھ ساتھ مشرقی ایشیا ئی ممالک جیسےانڈونیشیا،ملائیشیا،سنگاپور وغیرہ بھی گلوبل وارمنگ سے متاثر ہورہے ہیں لیکن اپنے بہتر نظام و حکمت عملی کی وجہ سے ہم سے کئ گنا بہتر صورت حال میں ہیں حالانکہ یورپ کی کالونی تو وہ بھی بنے اور ہمارے بعد آزادی حاصل کی مگر معاشی اور سیاسی ترقی میں ہم سے آگے نکل گئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اس بدلتی دنیا اور اس بدلتے موسم کے ساتھ اپنے آپ ہم آہنگ کرسکیں اور تھوڑی سنجیدگی کے ساتھ ملک کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔





































