
ہماعدیل
گل پلازہ صرف ایک عمارت نہیں تھی، یہ ہمارے بچپن کی یادوں کا حصہ تھی ۔ پھر ہماری شادی کی تیاریاں بھی وہیں سے ہوئیں ۔ زندگی بدلتی رہی
اور گل پلازہ کی عمارت وہیں کھڑی رہی ۔ گل پلازہ سے شاپنگ کرنا میرے لئے ایک تھراپی جیسا تھا۔ گھر کے ڈیکور سے لے کر کچن کے مصالحوں کے ڈبوں تک، لیمپس سے لے کر بیڈنگ تک ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں گل پلازہ کی یادوں میں شامل ہیں ۔ یہ کراچی کا وہ مال تھا جہاں لوئر مڈل کلاس، مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس سب ایک ہی چھت کے نیچے ، اپنے گھروں کو خوابوں سے سجانے کا سامان خریدنے آتے تھے ۔یہ وہ مال تھاجہاں شادیوں کی شروعات ہوتی تھیں،جہاں نئے گھروں کا پہلا سامان خریدا جاتا تھا،جہاں بچوں کی آمد کی تیاری ہوتی تھی،جہاں کھلونے تھے، بیگز تھے، خوشبوؤں تھیں اور زندگی کے ہر مرحلے کی ایک جھلک تھی ۔ سچ یہ ہے کہ ابھی تو بہت سا سامان باقی تھا جو مجھے بھی گل پلازا سے خریدنا تھا،مگر پھر۔۔۔یہ سب راکھ ہو گیا۔ جو اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا وہ تو اپنی جگہ مگر جن معصوم جانوں کا نقصان ہوا وہ کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔
میری نظر میں تو ان تمام دکانداروں کی شکلیں گھوم رہی ہیں جن سے ہم نے وقتاً فوقتاً سامان خریدا تھا۔ اللہ تعالیٰ سب پر رحم فرمائے ، آمین ۔ اس سانحہ میں یقیناً پلازہ کی انتظامیہ کی غفلت بھی شامل ہے ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وہاں سیڑھیاں کتنی تنگ تھیں ، بجلی کے الجھے تار کھلی آنکھوں سے دیکھے جاسکتے تھے ۔ کہا جا رہا ہے کہ جب یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی تو اس میں تقریباً چار سو دکانوں کی گنجائش تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ انہیں چھوٹا کرکے ہزار سے زائد دکانیں بنا دی گئی ،بہرحال سب سے بڑا سوال تو حکومت سے ہی بنتا ہے ، پیپلز پارٹی سے ہی بنتا ہے کہ جو کراچی پہ قابض ہوکر بیٹھی ہے ، مئیر کراچی سے بنتا ہے ۔بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہاں تھی؟
ان کے قوانین، پروٹوکولز،اور سالانہ انسپکشن ٹیمیںکاغذوں تک ہی محدود کیوں رہیں؟ کیا کبھی یہ چیک کیا گیا کہ فائر سیفٹی میجرزواقعی فالو ہو رہے ہیں یا نہیں؟کیا کبھی کسی نے پوچھاکہ اگر یہاں آگ لگےتو لوگ کیسے نکلیں گے؟اور پھرفائر بریگیڈ کا نظام نہ مکمل آلات،نہ جدید ٹیکنالوجی،نہ فائر فائٹرز کے پاسپورا حفاظتی لباس،نہ مناسب اسنارکل اور سب سے افسوسناک
پانی کی شدید قلت،اوپر سےکراچی کی ٹوٹی تباہ حال سڑکیں، جن کی وجہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچنے میں مزید تاخیر کا شکار ہوئیں۔
یہ سانحہ رمضان سے پہلے پیش آیا ہے، جب کاروبار اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ یہ صرف کاروبار نہیں تھا،یہ نسلوں کی محنت تھی۔ کراچی پھیل رہا ہے، آبادی بڑھ رہی ہے، عمارتیں اونچی ہو رہی ہیںمگر ہمارا سسٹم وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔
کیا صوبائی حکومت ، کیا میئر کراچی اس کی ذمہ داری لیں گے ؟؟؟ اور کیا کوئی شرم و غیرت سے استعفیٰ دے گا؟؟؟ ہم کب تک یہ سانحات برداشت کرتے رہیں گے؟ گل پلازا آج راکھ ہے، مگر سوال زندہ ہیں۔
اور اگر آج بھی ہم خاموش رہےتو کل کسی اور پلازہ میں کسی اور کے خواب جلیں گےاور تب شاید لکھنے والا کوئی اور ہوگا، مگر کہانی وہی ہوگی:
نااہلی، بے حسی، اور خاموشی۔





































