
غیور احمد خان
غزہ کی صبحیں قوس وقزاح کےرنگوں میں ڈوبی نہیں ہوتیں۔وہ دبیز دھوئیں کی بادل سےاٹی ہوتی ہیں یاعام آگ کےاوپرجوسرخ شعلہ ہوتا ہے،اس کی
طرح بمباری کی اڑتی چنگاریوں سےسجی ہوتی ہیں۔ 46سال سےجوقوم آزادی کےلئےلڑرہی ہے۔امریکا اوراسرائیل غزہ پربمباری کرکےاپنےہتھیاروں کی ہلاکت خیزی کی گواہی سےشہیدان غزہ کےخون اوران کی لاشوں کے ٹکڑوں حاصل کرتے رہے ہیں ۔
پہلےیہ کبھی کبھی ہوتا تھا۔اب 7اکتوبر2023 کے بعد روز کا معمول بن گیا ہے،سرنگیں فلسطینیوں کا وہ فن ہےجو کسی کےپاس نہیں لیکن حماس کےسپہ سالارشیخ یاسین سےیحیٰ السنوار تک انہوں نے جو بھی جنگ لڑی وہ اگلی صفوں میں رہ کراپنے کارکنوں کی قیادت کی جو تاریخ انسانی کی شجاعت کی ایک انوکھی مثال ہے ۔
اسرائیل کا وریر اعظم نیتن یاہو خود کہتا ہے ہم نظریاتی تحریک کو ختم نہیں کرسکتے۔وہ یہ بھی کہتا ہےہم کواپنی جانوں سےمحبت ہےاورہم جن لوگوں سے لڑ رہے ہیں ۔ وہ اپنی شہادت کو اللہ کا انعام سمجھتے ہیں ۔اسرائیل کا عزم یہ ہے کہ حماس کو صفحہ ہستی سےمٹادو ۔ شہیدان غزہ کے بچے اورعورتیں بے یارو مدد گار کھلے آسمان تلے رہنےوالوں پرکی جانے والی بمباری سےلاشیں چیتھڑے بن کرفضاء میں اڑرہی ہیں ۔
اے مرحوم امت مسلمہ حماس نے دوبارہ آگاہ کیا ہےکہ لال بچھڑایہودی روایت نہیں ایمان کی طرح اس کی قربانی کےبعد(نعوذ باللہ)مسجداقصی اوربیت المقدس کو ڈھا دیا جائے گا ۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیرکے لئے۔۔۔پاکستانیوں زندہ ہونے کا ثبوت دو ۔ پوری دنیا میں مظاہرے ہورہے ہیں ۔یمن کے حوثی غزہ کے لئے اسرائیل اور امریکا سے اعلان جنگ کرچکے ہیں ۔ان نڈر لوگوں کا کہنا ہے تم غزہ پرحملے بند کرو۔ہم تم پر حملے بند کردیں گے ۔ امریکا اسرائیل نواز ملک میں سو جگہوں پر مظاہرے ہوئے ہیں ۔پوری توانائی کے ساتھ نکلو اور دشمنان غزہ فلسطین کو بتلادو ہم زندہ ہیں ۔





































