
غیوراحمد خان
دوہزار ستانوے میل پاکستان سےدوراسرائیل جس طرح فلسطینیوں کا لہو بہا رہا ہے،اتنی ہی تیزی سےپاکستانیوں کےدلوں میں اسرائیل کوفنا کردینے کی
خواہش بڑھ رہی ہے ۔ جو دہکتےشعلے،فضائی بمباری سےاس نے آگ نمرود کی طرح غزہ کےلوگوں کےلئےبھڑکائے ہیں،پاکستانیوں کےدل اس کی تپش سے جھلس رہے ہیں ۔ اس پر وزیر اعظم پاکستان نے اپنے بیانات سے بارش کی بوند وں کی مانند اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بات نہیں بنی ۔کہیں علماء بے قراری سے اسرائیل کے خلاف علم جہاد فتویٰ کی شکل میں بلند کررہے ہیں ۔
اسرائیل تجھے علامہ اقبال (رح) کی تقدیرامم کیا ہےبتلاؤں ،آتجھےقائداعظم (رح )تیرے ناپاک وجود سےکتنی نفرت کرتے تھے دکھلاؤں ۔ اسرائیل جب امریکہ کے پہلے دورے میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو اسرائیل سے دوستی کے عوض امریکہ کی طرف نہال کردینے کے وعدے کئے گئے تھے تو اس مرد حر نے ایک لمحہ میں جواب دیا ہماری روح (فلسطین) برائےفروخت نہیں اور امریکہ نے اسے ماردیا مگروہ زندہ ہے ہمارے دلوں میں کیوں کے ہم اپنی روح فروخت نہیں کرتے۔
اسرائیلی بزرگوں نے خلافت عثمانیہ کے آخری تاجدارسے کہا تم اسرائیل کو یہ سرزمین دے دو ہم تمہیں نوازدیں گے ۔ اس مرد حر نے یہی کہا تم یہاں سے چلے جاؤ میں تمہیں اس کام کے لئے ایک انچ زمین نہیں دوں گا اور وہ تاریخ کی داستان بن گیا ۔ یہ داستان بھی ہمارے سینوں میں امانت ہے ۔
ایک ملعون نے سلطان صلاح الدین کی قبر پر لات مار کہا تھا ، صلاح الدین ایوبی ہم آگئےہیں ۔نہ کردوں میں کوئی مرد حراس ٹھوکرکاجواب دینےکےلئےاٹھا اور نہ ترکوں میں سے کوئی اسے جواب دے سکا اور نہ عربوں کی تلواریں اس کے جواب کے لئے لہرائیں ۔مگر ٹرمپ کے لئے تلواروں کے ساتھ سر بھی سرنگوں تھے ۔ دنیا کے مہلک ہھتیار پاکستان کے پاس ہیں جن کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا لیکن پاکستان میں سکوت ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ طلسم کب ٹوٹتا ہے لیکن شاہراہ قائدین کراچی سے بنگلہ دیش کے میدانوں تک لاکھوں انسانوں کے سر ہی سر فلسطین سے یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے اور فلسطین کے جھنڈے لہرا کر با آواز بلند کہہ رہے تھے ، فلسطنیوں ہمارے سر تمہارے لئے حاضر ہیں ۔۔۔ ہم زندہ ہیں ۔





































