
غیوراحمد خان
تم گٹروں میں بچوں کوڈوبتا دیکھ کرمطمئن ہولیکن پورا پاکستان اورشہر کراچی نوحہ کناں
ہے۔ہمارے بچے گڑ میں گر کر مررہے ہیں۔کہیں موت کے بعد نکلا اورکہیں مرنے سے پہلے بچا لیا گیا لیکن گند میں ڈوبا ہوا نکلا اورکہیں وہ گڑھا نظر آرہا ہے جو کسی بچے کے اندر گرنے کا منتظر ہے۔اگر سمجھ لیا جائے کہ یہ کسی نشہ باز نے ڈھکن چرایا ہے،ڈھکن اتنا کم وزن نہیں ہوتا اوراسے اتنی آزادا نا نقل وحمل کون فراہم کررہا ہے۔شراب ام الخبائث ہے،حرام ہے لیکن یہ اتنی کثرت سے کیوں استعمال کی جارہی ہے۔پورا یورپ، امریکا، برطانیہ کامیڈیا سگریٹ سے چائے اور نشہ کی ہر قسم عادتوں اور بدکاریوں کا ہر عمل پیش کرتارہا ہے اوراس کے دنیا میں موجود اس کے وظیفہ خوار اور تقلید کار اس کا ہاتھ بٹاتے رہے ہیں مگر پاکستان کے معاشرے میں مزاحمت نے ان تمام سازشوں کو تشت ازبام کیا ہے اوریہ کش مکش چل رہی ہے اورچلتی رہے گی جب تک پرامن طور پر اسلام نافذ نہیں ہوجاتا۔اسلامی نظام کے ہامی احیاء اسلام کی تمام پر امن کوششیں کررہے ہیں لیکن ان کی کاوشوں کو تخریب میں بدل کر اس سے پاکستانی معاشرے کے اتحاد واتفاق کو نقصان پہنچایا جاتا ہے جس کے زخم عرصے تک مندمل نہیں ہوتے۔
یہ حادثے ایک دن کی پیداوار نہیں ہیں، ہر وقت قومیت کی پرستش جاگیردارانہ ذہنیت کا فروغ اورتحفظ اوران لوگوں کو اعلیٰ مناصب پر فائز کرنا جن کاکوئی کردار نہیں ہوتا اورنہ قابلیت اسلامی قوانین اورپر امن معاشرے کو پنپنے سے روکنے کے لئے کوئی ایسی وارادات کی تیاری کی جارہی ہے۔ڈرمپر تنازع اورفیصلے، گٹر حادثے میں ایک بچہ ڈوب کرمرگیا، دوسرے کوایک اورگٹر کے گندکے اندرسے زندہ نکال لیا۔ دوسرا ایک گڑھا اس کا منتظر ہے،کون سا شکار اس میں آ کر گرتا ہے، ہم پر جس قسم کے انتخابات مسلط کئے جاتے ہیں، وہ بدترین دھاندلی اورہٹ دھرمی کا کھلا نمونہ ہوتے ہیں۔
دینی جماعتیں ایک مطالبے پر متفق ہوں۔اسلامی نظام، شریعت کا نظام دیا جائے۔ پاکستانی میڈیا کو لگام دی جائے جس طرح وہ اسلامی معاشرتی، خاندانی نظام کے بخیے ادھیڑ رہا ہے اورناچ گانے کی پیش کاری کے فن کو دکھارہا ہے،وہ اچھی طرح سمجھ لے۔ ہمارامعاشرہ بے حیائی کو قبول نہیں کرے گا۔
نوٹ: ایدیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں (ادارہ رنگ نو)





































