
عبدالباسط / کراچی
یونیورسٹی کی زندگی بظاہرایک آزاد، خوشگواراورتعلیمی ترقی کا دورمحسوس ہوتی ہے،لیکن اس کےپس پردہ ایک ایسا مسئلہ چھپا ہوتا ہے جو روز بروز
شدت اختیار کر رہا ہوتاہے اور وہ ہےذہنی دباؤ (سٹریس)، بے چینی (انزائٹی)اور ڈپریشن ۔ یہ وہ خاموش مسئلہ ہے جس کا شکار اکثر طلبہ ہوتے ہیں مگر اس پر بات کرنا اب بھی ایک "غیر ضروری" یا "شرمناک" عمل سمجھا جاتا ہے۔
یونیورسٹی کے طلبہ پرکئی قسم کےدباؤہوتے ہیں،جیسےکہ ہرسمیسٹرمیں درجنوں لیکچرز،مسلسل اسائنمنٹس،پریزنٹیشنز، قلیل وقت میں ٹیسٹ ،امتحانات اور اچھے گریڈز لانے کی خواہش یا خاندانی توقعات جو طلبہ ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم نوکری یا گھریلو ذمے داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں، ان پردباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اکثر طلبہ اس بات کو لے کر فکر مند ہوتے ہیں کہ ڈگری کے بعد نوکری ملے گی یا نہیں۔ کیریئر کس سمت جائے گا یا وہ عملی دنیا میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ یہ غیر یقینی صورتحال ان کے ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہے۔
یونیورسٹی میں دوست بنانا، سماجی حلقےمیں فِٹ ہونا، یا گروپ پروجیکٹس میں ایڈجسٹ ہونابعض طلبہ کےلیےمشکل ہوتا ہے۔ کچھ لوگ نئے ماحول میں خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر وہ جو کسی اور شہر یا علاقے سے آئے ہوتے ہیں۔
یہ ذہنی دباؤ وقت کے ساتھ سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے جس سے طلبہ میں نیند کی کمی یا زیادتی، بھوک میں کمی یاغیرمعمولی کھانے کی عادت، پڑھائی سے دلچسپی کا خاتمہ، خود اعتمادی میں کمی، یہاں تک کہ شدید ڈپریشن کی صورت میں خودکشی جیسے خیالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سےطلبہ یہ علامات محسوس کرنےکے باوجود کسی سےبات نہیں کرتے کیونکہ انہیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ انہیں کمزور سمجھیں گے یا انہیں لگتا ہے کہ یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا" جو کہ ایک غلط سوچ ہے۔ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں یونیورسٹیز میں مینٹل ہیلتھ سپورٹ یا کاؤنسلنگ سروسزنہ ہونے کے برابر ہیں، اگر کوئی سہولت موجود بھی ہوتو طلبہ تک اس کی آگاہی نہیں پہنچتی یا وہ اس کا فائدہ لینے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔
ذہنی صحت پر کام کرنا صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے،اساتذہ، والدین، اور خود طلبہ کی بھی ذمہ داری ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ ہر یونیورسٹی میں کاؤنسلنگ سینٹر کے ہونے کو یقنی بنائیں۔مینٹل ہیلتھ سے متعلق سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کی جائیں۔ ہر نئے طالب علم کو ذہنی صحت کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔اساتذہ کے لیے اہم ہے کہ طلبہ کی کارکردگی میں کمی کو سنجیدگی سے لیا جائے اور سختی کے بجائے سمجھ داری اور حوصلہ افزائی کا رویہ اپنائیں۔ والدین صرف گریڈز پر توجہ نہ دیں، بچے کے رویے، بات چیت، اور جذبات پر بھی دھیان دیں اور "ذہنی دباؤ" کو بہانہ یا کمزوری نہ سمجھیں۔
نتیجہ یہ کہ ذہنی دباؤ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک انسانی کیفیت ہےجس کا علاج ممکن ہے، بشرطِ کہ اسےتسلیم کیاجائے اور بروقت اس پر بات کی جائے۔ یونیورسٹی کی زندگی صرف نمبرز یا کامیابی کی دوڑ نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان بننے کا عمل ہے۔ اس عمل میں ذہنی سکون اور جذباتی توازن کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔





































