
شازیہ بانو/ گوجرہ
آج صبح آنکھ کھلتےہی جو پہلا کلمہ منہ سے نکلا وہ شکرکا تھا۔ الحمدللہ رب العالمین جس نے سکون کی رات اور امن کی صبح نصیب کی۔
حالات حاضرہ جاننے کے لیے ٹی وی لگایا تو پتاچلا آج کا دن سرکاری اعلان کے مطابق یوم تشکرکےطورپرمنایا جائےگا۔گزرے کل کی فوٹیج دکھائی جا رہی تھی کہ لوگ مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں، ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہے ہیں۔
بلا شبہ یہ خوشی منانےکا دن ہےلیکن اللہ رب العزت کے سامنےعاجزی اورانکساری کےساتھ سجدہ شکر ادا کرتےہوئےکہ اس نےہمیں فلسطین بننے سے بچایا۔ فخر کا مقام ہے مگر تکبر سے بچ کر خوشی کا اظہار کریں۔ جنگیں جذبے سے جیتی جاتی ہیں اور نہ ہی سازو سامان سے، جب تک اللہ کی تائید و نصرت شامل نہ ہو۔ یہ اللہ کا احسان ہے جس نےفتح نصیب کی۔
جب سے پہلگام واقعےکا الزام پاکستان پر لگا تب سے پاکستان کی طرف سےاس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ سات مئی کو ان مدارس کا بین الاقوامی مبصرین کو معائنہ کروایا جانا تھاکہ وہ خود دیکھ لیں یہاں کوئی تربیتی کیمپ ہے اور نہ ہی دہشت گردوں کو کوئی سرکاری سر پرستی حاصل ہے مگر بھارت اپنی طاقت کے زعم میں اپنی عوام میں جنگی جنون پیدا کر چکا تھا اور آنے والے بہار کے الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس جنون کو سکون فراہم کرنے کے لیے رات کے اندھیرے میں ہماری قومی سالمیت کو پامال کرتے بین الاقوامی حدود کو روندتے ہوئے 6 مقامات پر میزائیل حملے کر کے بے گناہ خواتین ، معصوم بچوں اور قران کے طالب جوانوں کو نشانہ بنایا۔ مساجد کو شہید کیا۔
بھارت اپنی کامیابی کے شادیانےاپنےالیکٹرانک میڈیا پربجانے لگا۔(ان کے چینلزپرجھوٹ کا وہ طوفان کھڑاکیا گیا کہ آج ان کی میڈیا سےان کی قوم کا اعتماد اٹھ گیا ہے) لیکن نہیں۔۔۔۔ ہماری سرحدوں کے محافظ جاگ رہے تھے۔ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے گھوڑے( میزائل، جنگی جہاز، توپ خانہ) تیار رکھے تھے لہذا فوری رد عمل سامنےآیا۔ دنیا نے دیکھا کہ اپنی اپنی سرحد پر رہتے ہوئے 70 بھارتی اور کوئی 30 پاکستانی جنگی جہازوں کے نے فضائی برتری کے لیے اڑانیں بھریں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق طویل ترین ڈاگ فائٹ ہوئی اورہمارے شاہین 5 انڈین طیارے شکارکرکےبحفاظت اپنی ائیربیس پراترگئے۔یہ نتائج دنیا کو چونکا دینے والے تھے۔ بھارت اس سے انکاری تھا۔ اپنی خفت مٹانے، پاکستان کو اکسانے کے لیے ڈرون کی برسات کر دی۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اعصاب قابو میں رکھتے ہوئے ردعمل دینے کی بجائےتمام ثبوت اکٹھے کیے اور 185 ملکوں کے نمائندوں کے سامنے پاک افواج کے تینوں نمائندگان کی طرف سے ایک بہترین، مدلل، نکتہ بہ نکتہ پریزینٹیشن دیں جس میں بھارت کے تمام ڈرامے اور جھوٹ بے نقاب کرتے ہوئے دنیا کو مضبوط لب و لہجے میں پیغام دیا گیا کہ ہم اپنے دفاع کا حق محفوظ
رکھتے ہیں اور اب اپنی مرضی سے اپنےطریقے سے جواب دیں گے۔پھر 10 مئی2025 کاسورج طلوع ہوا،سنت نبوی کودہرایا گیا،جنگی جواب کا نام بنیان المرصوص رکھا گیا، جو اللہ کی راہ میں سیسہ پلائی دیوارکی طرح مضبوط ہو کر لڑتے ہیں، وہی اللہ کی محبوب ہیں۔
اللہ پاک نے عزت دی۔ دشمن کے ٹھکانوں کو( جہاں سےپاکستان پرحملہ کیا گیا تھا) طاق طاق کر نشانہ بنایا گیا۔ ایسی زک پہنچائی جو دشمن اور اس کے حواریوں کے گمان میں نہ تھی۔ یہی ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ عالمی طاقتیں جو پاکستان کو کمزور کرنے کے لیےدر پردہ بھارت کا ساتھ دیتے ہوئے بظاہر لا تعلقی کا اعلان کر چکی تھیں چونک گئیں۔ پاکستان ملٹری نے " سرپرائز" دیا تو دنیا کی آنکھیں کھل گئیں جو پاکستان کو بھی فلسطین بنانے کے لیے انڈیا کو فری ہینڈ دے رہے تھے ،فوری ثالثی کروانے کے لیے کود پڑے۔ جو پاکستان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کو در خور اعتنا نہیں سمجھ رہے تھے، بھارت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان کو جنگ بندی کے لیے فون کھڑکانے لگے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر پاکستان کی طرف سے اتنا تگڑاجواب نہ دیا جاتا تو بھلے ہفتوں بھارت کی طرف سےچھیڑ چھاڑجاری رہتی توکسی طاقتور ملک نے پاکستان کی جنگ بندی کی درخواست پر کان نہیں دھرنے تھے۔ یہود و ہنود پاکستان کو کمزور دیکھناچاہتے ہیں کیونکہ کچھ بھی ہو پاکستان عالم اسلام میں طاقت کا ایک ایسا منبہ ہے جو دشمنوں کو کھٹکتا ہے اور اسے زیر کرنے کے لیے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دیتے ہیں۔
اب ہماری طرف سےجوابی صلاحیت کے مظاہرے کےبعد بھنگڑےڈال کرمطمئن ہونےکا وقت نہیں بلکہ اپنےدفاع اورجوابی وارکی طاقت کو مزید بڑھانے کا وقت ہے۔ اب ہماری چھپی طاقت دنیا کےسامنے عیاں ہو گئی ہے، بھارت اس کا توڑ ڈھونڈے گا تو ہمیں اپنا حفاظتی حصار اس بھی زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اندرونی معاملات کا بھی باہمی افہام و تفہیم سےحل نکالنا ضروری ہے تاکہ بیرونی دشمن قوم میں رخنہ نہ ڈال سکے۔
مضبوط دفاع کی پشت پر متحد قوم۔۔۔ یہی بنیان المرصوص ہے۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد





































